"ایک مرگِ ناگہانی اور ہے"
اخباری کالموں میں ذاتی مسائل کے ذکر سے ہمیشہ گریز اختیار کیا ہے۔ گزشتہ چند مہینوں سے مگر طبی مسائل نے پریشان کیا تو ذکر کو مجبور ہوا۔ مقصد اس ذکر کا کالم کے دیرینہ اور باقاعدہ قارئین کو ذہنی طورپر کبھی کبھار ناغے کے لئے تیار کرنا تھا۔ ذاتی مسائل مگر طبی سے بڑھ کر مزید علاقوں میں سیلاب کے پانی کی طرح نمودار ہونا شروع ہوگئے۔ یکے بعد دیگرے نازل ہوئی مصیبتوں سے گھبرا کر غالب کی طرح ’’فقط ایک مرگِ نا گہانی اور ہے‘‘ کا خیال ستانے لگا۔ آفتوں کے دور میں ہفتے کی سہ پہر ایک اور بدخبری لے کر آئی۔ اس کا ذکر خلقِ خدا کو ممکنہ طورپر درپیش آنے والی مشکلات کے بارے میں خبردار کرنے کے لئے ضروری سمجھتا ہوں۔کمرے میں اکیلا بیٹھا نیویارک ٹائمز سے رجوع کرتے ہوئے کالم کے لئے اچھوتا موضوع ڈھونڈ رہا تھا کہ گھریلو ملازم گھبرائے ہوئے آیا۔ اطلاع دینے کہ سی ٹی کے اہلکار گھر کے باہر کھڑے میرے منتظر ہیں۔ سی ٹی یعنی کاؤنٹر ٹیرر ازم کی اپنی دہشت ہوتی ہے۔ میری ڈھیٹ ہڈی مگر پیدائشی بزدل ہونے کے باوجود گھبراتی نہیں۔ گھر کے مین دروازے پر آیا تو دو اہلکار........
