مون سون ہر سال بحران ...
بارش اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ یہی بارش کھیتوں کو زندگی دیتی ہے، دریاؤں کو رواں رکھتی ہے، زیرِ زمین پانی کو بڑھاتی ہے اور فضا کو تازگی عطا کرتی ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان میں یہی رحمت ہر سال زحمت کیوں بن جاتی ہے؟ آخر ایسا کیا ہے کہ بادل برستے ہیں تو خوشی کے بجائے خوف جنم لیتا ہے ، موسم کی خوبصورتی کے بجائے اموات کی خبریں آتی ہیں اور ٹھنڈی ہواؤں کے ساتھ بے بسی، آہیں اور سسکیاں بھی ہمارے شہروں میں گردش کرنے لگتی ہیں؟ یہ سوال صرف موسم کا نہیں، ہماری اجتماعی سوچ، شہری منصوبہ بندی، حکمرانی اور ترجیحات کا بھی ہے۔ہر سال مون سون آتا ہے۔ محکمہ موسمیات پہلے ہی خبردار کر دیتا ہے کہ معمول سے زیادہ بارشیں ہوں گی۔ این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے اجلاس کرتے ہیں، ہدایات جاری ہوتی ہیں، پریس کانفرنسیں ہوتی ہیں، مگر جیسے ہی پہلی تیز بارش ہوتی ہے، پورا نظام پانی میں بہتا دکھائی دیتا ہے ۔ سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں، گلیاں ندیوں کا منظر پیش کرتی ہیں، بجلی کے کھمبے جان لیوا خطرہ بن جاتے ہیں ، سیوریج کا پانی گھروں میں داخل ہو جاتا ہے، اور شہری اپنی ہی بستیوں میں محصور ہو کر رہ جاتے ہیں۔ افسوس اس بات کا نہیں کہ بارش زیادہ ہوئی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے ہر سال کے تجربے سے کچھ نہیں سیکھا۔پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا بڑا شہر ہو جہاں بارش کے بعد شہری معمولات مکمل طور پر متاثر نہ ہوتے ہوں۔ کراچی ہو یا لاہور، راولپنڈی ہو یا فیصل آباد، پشاور ہو یا کوئٹہ، ہر جگہ ایک ہی منظر دکھائی دیتا ہے۔ کہیں گھنٹوں ٹریفک جام رہتی ہے، کہیں ایمبولینسیں راستہ........
