نہ آئینے میں جِلا رہی
الطاف حسن قریشی رخصت ہوئے، اور ایک پورا دور بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ وہ دور جس کی محض چند جھلکیاں ہی نشانی کے طور پر باقی تھیں۔ اب یہ دور ہے، بالکل نیا زمانہ، دبئی کے شہر کی طرح، جس میں ایک بھی پرانی عمارت نہیں ، آثار قدیمہ کے طور پر پرانے دور کی ایک اینٹ بھی باقی نہیں۔ دبئی میں گھوم کر یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ پرانے دور کے نام کی بھی کوئی چیز ہوا کرتی تھی۔ الطاف حسن قریشی بہت بڑے مدیر، مصنف، دانشور ہی نہیں، ایک ختم ہوتی تہذیب کا نمونہ بھی تھے۔ اردو کی ماہانہ صحافت کو انہوں نے ایک نیا رنگ دیا۔ ان کی اختراع طبع اگلے ہی مہینے دوسرے جرائد کیلئے نمونہ بن جاتی تھی۔ ذاتی زندگی میں تہذیب و شائستگی کا جو معیار انہوں نے رکھا تھا، اسی کی جھلک ان کی تحریر میں تھی۔ طبیعت کی طرح ان کی تحریر بھی نرم ہوا کرتی تھی، سخت سے سخت بات نرم سے نرم لہجے میں پہنچانے کا قرینہ اور سلیفہ بہتوں نے انہی سے سیکھا۔ ان کا شروع کردہ جریدہ اْردو ڈائجسٹ آغاز کے چار پانچ برس بعد ہی برصغیر کا سب سے کثیر الاشاعت اِردو ماہنامہ بن گیا تھا۔ لیکن یہ عروج چند برس سے آگے نہ بڑھ سکا۔ 1971 ء کا المیہ بہت کچھ نگل گیا۔ پاکستان (باقی ماندہ پاکستان) میں........
