ایران امریکہ کشیدگی، ...
ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف دو ملکوں کا تنازع نہیں رہی بلکہ اب یہ عالمی سیاست، مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل، عالمی معیشت اور بڑی طاقتوں کے درمیان بدلتے ہوئے توازن کا مرکزی موضوع بنتی جا رہی ہے ۔ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں جنگیں صرف میدانوں میں نہیں بلکہ معیشت، سفارت کاری، پابندیوں، توانائی کی منڈیوں اور عالمی اتحادوں کے ذریعے بھی لڑی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تناؤ کو صرف روایتی دشمنی سمجھنا شاید زمینی حقائق کو مکمل طور پر نہ سمجھنے کے برابر ہوگا۔گزشتہ کچھ مہینوں میں عالمی منظرنامے پر جو تبدیلیاں سامنے آئی ہیں، انہوں نے اس تنازعے کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ ایک طرف امریکہ اپنے عالمی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، دوسری طرف چین خاموش مگر مسلسل انداز میں دنیا کے اہم خطوں میں اپنا کردار بڑھا رہا ہے۔ روس پہلے ہی یوکرین جنگ کے باعث مغرب کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی میں ہے۔ ایسے ماحول میں ایران ایک ایسا جغرافیائی اور سیاسی مرکز بن چکا ہے جسے مکمل طور پر نظر انداز کرنا کسی بڑی طاقت کے لیے ممکن نہیں رہا۔یہی وجہ ہے کہ آج سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ ایران اور امریکہ ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات کیوں دے رہے ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان تمام بیانات کے باوجود دونوں پسِ پردہ کسی نئے سمجھوتے کی طرف بڑھ رہے ہیں؟اگر حالات کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیا جائے تو ایک دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔ امریکہ کی حالیہ پالیسی میں پہلے جیسی جارحیت دکھائی نہیں دیتی۔ ماضی میں ‘‘زیرو ٹالرنس’’ اور ‘‘مکمل دباؤ’’ کی زبان استعمال کی جاتی تھی، مگر اب سفارتی رابطوں، محدود رعایتوں اور ثالثی کی باتیں زیادہ سنائی دے رہی ہیں۔ دوسری طرف ایران بھی........
