ایران میں قیادت کے اچانک ...
یہ متن میں ایک واضح اصول کے ساتھ لکھ رہا ہوں: ہم اسے ایک حقیقت پسندانہ مگر’’ممکنہ،منظرنامہ جاتی‘‘ تجزیہ سمجھیں گے، یعنی اگر ایران کی اعلیٰ ترین قیادت میں اچانک خلا پیدا ہو جائے یا ریاست خود اعلان کرے کہ سپریم لیڈر دنیا میں نہیں رہے، تو اندرونِ ایران اقتدار کیسے چلتا ہے، خطہ کیسے ہلتا ہے، اور کون سی سمتیں زیادہ ممکن ہیں۔ اس نوعیت کے واقعات میں جذباتی جملوں اور سوشل میڈیا کے شور سے زیادہ اہم وہ چیز ہوتی ہے جو ریاست کے ادارے، آئین، سکیورٹی ڈھانچے، اور معاشی حقیقتیں کرتی ہیں۔ اسی لیے میں اسے ’’سیاست بطور مشینری‘‘ کے زاویے سے کھولوں گا تاکہ آپ کو واقعی سمجھ آئے کہ اگلے 48 گھنٹے، 40 دن، اور پھر 6 سے 18 ماہ کی سمت کیا ہو سکتی ہے۔اگر ایران میں سپریم لیڈر کا منصب اچانک خالی ہو جائے تو پہلا ردعمل عوامی سوگ یا نعروں سے پہلے ’’ریاستی تسلسل‘‘ دکھانا ہوتا ہے، کیونکہ ریاست کا سب سے بڑا خوف یہ ہوتا ہے کہ طاقت کے خلا کی خبر دشمن کے لیے دعوت اور اندرونِ ملک کے لیے بے یقینی بن جائے۔ اسی لیے فوری طور پر تین کام کیے جاتے ہیں۔سکیورٹی ہائی الرٹ، اطلاعاتی کنٹرول (یعنی خبر کی ٹائمنگ اور بیانیہ) اور عبوری انتظام تاکہ دفتری فیصلے، کمانڈ چین، اور روزمرہ حکمرانی رکے نہیں۔ اس مرحلے میں ایران کا آئینی ڈھانچہ ایک بنیادی راستہ فراہم کرتا ہے جس کے مطابق نئی قیادت کے انتخاب کا بااختیار ادارہ ’’مجلس خبرگان‘‘ہے، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ ’’پاسدارانِ انقلاب، انٹیلی جنس نیٹ ورک، عدلیہ اور گارڈین کونسل‘‘اس انتخاب کے سیاسی امکان کو شکل دیتے ہیں۔ یعنی کاغذ پر طریقہ موجود ہوتا ہے، مگر طاقت کے مراکز اس طریقے کے اندر رہ کر اپنے لیے قابلِ قبول نتیجہ نکالتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فوری ریاستی ڈھانچہ ٹوٹنے کے بجائے عام طور پر زیادہ سخت اور زیادہ منظم ہو جاتا ہے، کیونکہ ادارے سمجھتے ہیں کہ اگر اس لمحے میں نظم ٹوٹا تو پھر سب کچھ ٹوٹ سکتا ہے۔اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا قیادت کے خلا کے بعد ریاست ’’مزید سخت’’ ہوتی ہے یا مزید لچکدار‘‘۔ عمومی پیٹرن یہ ہے کہ ایسے دھچکوں کے بعد ریاست پہلے مرحلے میں سخت ہوتی ہے، کیونکہ اس کا فوری ہدف تین چیزیں ہوتی ہیں: اندرونی انتشار روکنا، دشمن کو غلط سگنل نہ دینا، اور اداروں کی یکسوئی قائم رکھنا۔ لہٰذا اگر 40 روزہ سوگ جیسی چیزیں ہوں تو وہ محض مذہبی/ثقافتی اعلان نہیں ہوتیں بلکہ سیاست بھی ہوتی ہے: عوامی جذبات کو ایک سمت میں رکھنا، سڑک کی توانائی کو کنٹرول کرنا، اور ریاستی بیانیہ ’’قومی یکجہتی بمقابلہ بیرونی جارحیت‘‘کی شکل میں مضبوط کرنا۔ اسی بیانیے کے تحت ریاست یہ کوشش کرتی ہے کہ اختلافی آوازیں وقتی طور پر کمزور پڑ جائیں، کیونکہ لوگ عموماً قومی صدمے کے وقت بکھرنے کے بجائے اکٹھے ہونے کی طرف جاتے ہیں، خاص طور پر اگر واقعے کو بیرونی حملے یا دشمنی سے جوڑا جائے۔اس کے بعد دوسرا بڑا سوال آتا ہے: کیا ایران فوری اور بڑا عسکری جواب دے گا؟ یہاں جذباتی توقعات اور ریاستی مفاد اکثر مختلف ہوتے ہیں۔ ریاست کے لیے ’’جوابی کارروائی‘‘کا مطلب صرف غصہ نکالنا نہیں بلکہ طاقت کا توازن برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ ایران اگر مکمل جنگ میں چلا جائے تو اسے اندرونِ ملک معیشت، تیل کی برآمدات، کرنسی، اور سماجی استحکام پر ایسی ضرب لگ سکتی ہے جس سے ریاست خود کمزور ہو جائے اور اگر جواب نہ دے تو کمزوری کا تاثر بن سکتا ہے جو دشمن اور اندرونی سخت گیر حلقوں دونوں کو فائدہ دے گا۔ اسی لیے زیادہ حقیقت پسندانہ راستہ ’’کنٹرولڈ ایسکیلیشن‘‘ ہوتا ہے: ایسا جواب جو سیاسی طور پر قابلِ فہم ہو، دشمن کو قیمت چکانے کا احساس دے، مگر ایسی سطح تک نہ جائے کہ براہ راست اور طویل جنگ چھڑ جائے۔ اس میں سائبر کارروائیاں، محدود پراکسی دباؤ، علامتی مگر نپا تلا فوجی ردعمل، یا مخصوص اہداف کے خلاف اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔ ریاست اس جواب کو یوں بناتی ہے کہ اپنے اتحادیوں میں بھی اعتماد رہے اور مخالف کے لیے بھی خطرہ واضح ہو، مگر عالمی طاقتوں کو یہ بھی سگنل ملے کہ ’’ہم بے قابو نہیں ہیں‘‘تاکہ مکمل اقتصادی و عسکری گھیراؤ نہ کھل جائے۔یہاں خلیج کا عنصر فیصلہ کن ہے۔ آبنائے ہرمز اور خلیجی توانائی تنصیبات ایسی جگہیں ہیں جہاں صرف چند دن کا بحران بھی عالمی معیشت میں جھٹکا پیدا کر دیتا ہے۔ اس لیے ایران اگر بہت دور تک جائے تو خود بھی معاشی طور پر نقصان اٹھاتا ہے، اور دنیا بھی اسے روکنے کے لیے زیادہ متحد ہو سکتی ہے۔ اسی لیے ایران کے لیے ’’حکمت عملی‘‘یہ ہوتی ہے کہ وہ خلیج کو ’’خطرہ‘‘دکھا کر دباؤ بنائے، مگر خلیج کو ’’مستقل بند‘‘کر کے اپنے خلاف عالمی اتحاد نہ کھڑا کر دے۔ یہی توازن سب سے مشکل اور سب سے حقیقی ہے، اور اسی سے خطے کے اگلے مہینے طے ہوتے ہیں۔اب آپ نے جو سب سے بڑا سوال رکھا، وہ ہے ’’رجیم چینج‘‘یعنی نظام کی تبدیلی۔ اس موضوع پر صاف بات یہ ہے کہ رجیم چینج نہ تو صرف بیرونی حملے سے خود بخود ہو جاتی ہے، نہ ہی صرف احتجاج سے فوراً واقع ہو جاتی ہے۔ رجیم چینج کے لیے چار شرطیں اکٹھی ہونا ضروری ہوتی ہیں: ریاستی سکیورٹی بلاک میں ناقابلِ واپسی تقسیم، اشرافیہ کے اندر بغاوت یا بڑے پیمانے کی بددلی، مسلسل منظم عوامی تحریک جس کے پاس قیادت اور حکمت عملی ہو، اور پھر ایسا معاشی یا انتظامی بحران جس سے ریاست ’’حکمرانی‘‘کی بنیادی صلاحیت کھو بیٹھے۔ اگر ان میں سے ایک یا دو چیزیں ہوں تو بھی ریاست اکثر قائم رہتی ہے، البتہ سختی بڑھا دیتی ہے۔ ایران جیسے نظام میں جہاں سکیورٹی ادارے مضبوط ہیں اور ادارہ جاتی ساخت گہری ہے، فوری رجیم چینج کا امکان نسبتاً کم ہوتا ہے، خاص طور پر اگر واقعے کے بعد ریاست ’’قومی خطرے‘‘کا بیانیہ کامیابی سے چلا لے۔ البتہ یہ بھی سچ ہے کہ قیادت کے خلا سے اندرونی سیاست میں ’’پرانی مساواتیں‘‘ ضرور ہلتی ہیں، اور اگر جانشینی کا عمل متنازع ہو، دیر سے ہو، یا طاقت کے مراکز ایک دوسرے کو کھا جائیں، تو پھر وہی نادر موقع بنتا ہے جہاں رجیم چینج کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ مگر بڑھنے کا مطلب ’’یقینی‘‘ نہیں، اور اگر تبدیلی ہوتی بھی ہے تو اس کی شکل لازماً لبرل یا مستحکم نہیں ہوتی؛ بعض اوقات نظام کمزور ہو کر زیادہ عسکری یا زیادہ سخت گیر شکل بھی اختیار کر لیتا ہے۔اس سارے عمل میں سب سے حساس مرحلہ ‘‘جانشینی’’ ہے۔ اگر جانشینی تیزی سے اور قابلِ قبول اتفاق کے ساتھ ہو جائے تو نظام جھٹکے کے باوجود سیدھا ہو جاتا ہے اور ریاستی تسلسل غالب آ جاتا ہے۔ اگر جانشینی پر کھینچا تانی ہو، مختلف دھڑے ایک دوسرے پر شک کریں، اور پاسداران یا مذہبی اداروں کے اندر اختلاف کھل کر سامنے آ جائے، تو پھر بحران گہرا ہوتا ہے۔ اس بحران کا پہلا نتیجہ عموماً اندرونِ ملک سختی، گرفتاریوں اور میڈیا کنٹرول کی شکل میں نکلتا ہے، کیونکہ ریاست غیر یقینی کو برداشت نہیں کر سکتی۔ مگر اگر اس سختی کے باوجود معاشی بحران بڑھتا جائے، اور عوامی بے چینی ایک جگہ جمع ہونے لگے، تو پھر ریاست کو یا تو اصلاحات کی طرف جانا پڑتا ہے یا مزید طاقت استعمال کرنی پڑتی ہے۔ اسی پوائنٹ پر ملک کا رخ طے ہوتا ہے، نرم سیاسی ایڈجسٹمنٹ، یا سخت گیر مرکزیت۔اب علاقائی نقشہ۔ ایران کی طاقت صرف اپنی سرحدوں کے اندر نہیں، بلکہ اس کی علاقائی نیٹ ورکنگ میں بھی ہے۔ اگر قیادت کا خلا پیدا ہو تو ایران کے اتحادی اور مخالف دونوں حرکت میں آتے ہیں۔ اتحادی یہ دیکھتے ہیں کہ’’تہران کی کمانڈ چین‘‘کتنی جلدی نارمل ہوتی ہے، اور مخالف یہ دیکھتے ہیں کہ ’’کیا یہ کمزوری کا لمحہ ہے؟‘‘۔ اس میں خطرہ یہ ہوتا ہے کہ غلط فہمیوں سے جنگ پھیل سکتی ہے، کیونکہ ایک طرف ایران ’’کمزور نظر نہیں آنا‘‘چاہتا، دوسری طرف مخالف ’’موقع ضائع نہیں کرنا‘‘ چاہتا۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں چھوٹی کارروائی بھی بڑا ردعمل پیدا کر سکتی ہے، اور پھر escalation کا چکر چل پڑتا ہے۔ اس لیے بہت سے ممالک، خاص طور پر خلیجی ریاستیں، ترکی، پاکستان، اور بڑی عالمی طاقتیں عمومی طور پر ڈی ایسکیلیشن کے لیے دباؤ ڈالتی ہیں، کیونکہ کھلی جنگ کا مطلب تیل، تجارت، اور داخلی امن سب پر ضرب ہے۔پاکستان کے تناظر میں، اس نوعیت کے واقعات کی ایک الگ گونج ہوتی ہے۔ ایران سے مذہبی جذباتی وابستگی رکھنے والے طبقات میں احتجاج ہو سکتا ہے، اور اگر کہیں اشتعال انگیزی یا تصادم ہو جائے تو امن و امان کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ریاست کے لیے یہاں سب سے بڑا چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک طرف عوامی جذبات کو اظہار کا راستہ دے مگر تشدد کو روک دے، کیونکہ تشدد اگر سفارتی تنصیبات یا حساس مقامات تک پہنچے تو بین الاقوامی دباؤ بڑھ جاتا ہے اور داخلی سیاست میں بھی نئے مسائل کھل جاتے ہیں۔ اسی لیے ایسے دنوں میں پاکستان سمیت ہر ریاست ’’سکیورٹی ، مینجمنٹ ، بیانیہ‘‘ تینوں کو اکٹھا چلاتی ہے۔اب مستقبل کے تین بڑے راستے، جنہیں آپ ’’نقشہ‘‘سمجھیں۔ پہلا راستہ یہ ہے کہ ایران جانشینی جلد مکمل کرے، ریاستی ادارے متحد رہیں، اور جواب کنٹرولڈ رہے۔ اس صورت میں چند ہفتوں میں سیاسی دھچکا ’’نئے توازن‘‘ میں ڈھل جاتا ہے، مگر ریاست اندرونِ ملک زیادہ سخت اور خارجہ پالیسی میں زیادہ محتاط مگر دباؤ والی رہتی ہے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ جانشینی کھینچ جائے، دھڑوں میں تناؤ بڑھے، سڑک پر احتجاج اور ریاستی سختی ساتھ ساتھ چلیں، اور خطے میں پراکسی جنگیں بڑھیں۔ اس صورت میں ایران طویل ‘‘پریشر کوکر’’ میں چلا جاتا ہے: نہ مکمل جنگ، نہ مکمل امن بلکہ مسلسل بحران جس سے معیشت اور سماج گھستا ہے۔ تیسرا راستہ یہ ہے کہ جانشینی بحران ، معاشی دھچکا ، سکیورٹی تقسیم ایک ساتھ آ جائے جس سے ریاستی کنٹرول کمزور پڑے اور پھر یا تو بڑی اصلاح،سیاسی تبدیلی جنم لے، یا پھر بدترین صورت میں داخلی انتشار اور طاقت کی نئی شکلیں نکلیں۔ تیسرا راستہ سب سے خطرناک ہے اور خطے کے لیے سب سے تباہ کن، اسی لیے اکثر ریاستیں اسے روکنے کی کوشش کرتی ہیں، مگر بعض اوقات واقعات کی رفتار اور غلط فیصلے اسے حقیقت بنا دیتے ہیں۔آخر میں، اگر میں آپ کو ’’منطقی نتیجہ‘‘ایک لائن میں دوں تو وہ یہ ہے: قیادت کا اچانک خلا ایران کے نظام کو گرا بھی سکتا ہے اور مزید سخت بھی کر سکتا ہے، مگر زیادہ امکان یہ ہے کہ ابتدا میں نظام اپنی بقا کے لیے سخت ہوگا، جانشینی کے ذریعے تسلسل دکھائے گا، اور بیرونی محاذ پر نپا تلا ردعمل دے گا، رجیم چینج صرف اسی صورت میں حقیقت کے قریب آتا ہے جب جانشینی متنازع ہو کر اداروں میں تقسیم پیدا کرے اور معاشی و سماجی بحران ایک منظم عوامی تحریک سے جڑ جائے، خلیج اور خطے کی سلامتی اس بات پر ٹکی ہے کہ یہ بحران کنٹرولڈ ایسکیلیشن میں رہتا ہے یا کئی محاذوں پر پھیلتا ہے اور پاکستان سمیت خطے کے ممالک کے لیے سب سے سمجھدار حکمت عملی یہ ہے کہ اندرونی امن و امان کو مضبوط رکھیں، سفارتی توازن قائم رکھیں اور کسی بھی جذباتی لہر کو تشدد میں تبدیل ہونے سے روکیں کیونکہ داخلی انتشار بیرونی بحران کو کئی گنا بڑا کر سکتی ہے۔
