غیر ملکی مداخلت قبول نہ ...
چند ہفتے قبل امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر لکھے ایک پیغام کے ذریعے ایران کے عام شہریوں سے وعدہ کیا کہ وہ جلد ہی ان کی مدد کو پہنچ رہا ہے ۔ حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے لہٰذا شدت سے جاری رکھے جائیں۔ مذکورہ پیغام وسیع پیمانے پر نشر اور شائع ہونے کے چند ہی لمحوں بعد سابق شاہ ایران کا برسوں سے جلاوطن ہوا فرزند بھی عالمی میڈیا میں تواتر سے نمودار ہونا شروع ہوگیا۔ اپنے انٹرویو کے ذریعے یہ ماحول بنانے کی کاوشیں شروع کردیں کہ وہ نجات دہندہ کی صورت مادر وطن لوٹنے کو بے چین ہے ۔ٹرمپ کا پیغام پڑھتے ہی ایران کے تازہ ترین حالات سے قطعی بے خبر ہوتے ہوئے بھی میں یہ سوچنے کو مجبور ہوگیا کہ ایران کی حکومت بنیادی طورپر ناقابل برداشت ہوئی مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو اب سفاکی سے کچلنا چاہے گی۔ جو ہنگامے ہورہے تھے ان کا کلیدی سبب ایرانی کرنسی کی قدر میں ریکارڈ توڑتی گراوٹ تھی۔ اس کی وجہ سے تاجروں نے اپنی دوکانوں کے شٹر گرادئے ۔ دیگر ممالک سے درآمد ہوئی روزمرہّ زندگی کے لئے لازم تصور ہوتی چند اشیائاور اجناس کو ایرانی کرنسی کی نئی قدر کے ساتھ بیچنا دوکاندار کو ان کی قیمت خرید بھی ادا نہیں کرپارہا تھا۔ منافع تو بہت دور کی بات ہے ۔ تاجروں اور دوکاندروں نے شٹرگرائے تو عام شہری بھی مہنگائی کے خلاف دہائی مچاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے ۔ اپنے مزاج کے برعکس ایرانی حکومت نے نہایت بر دباری سے عوام کے غصے اضطراب اور بے چینی کے حقیقی اسباب کا اعتراف کیا اور مظاہرین کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے کو ترجیح دی۔امریکی صدر کے لکھے پیغام اور شاہ ایران کے جلاوطن فرزند کی پھرتیوں نے مگر انہیں کچھ اور سوچنے کومجبور کردیا۔ ایران کی اجتماعی یادداشت میں 1950ئکی دہائی کے ابتدائی برس پتھر پر لکھی تحریر کی طرح نقش ہیں۔ ان دنوں ایران کے قوم پرست اور مقبول ترین رہ نما ڈاکٹر مصدق نے امریکہ اور یورپ کے ممالک کی کمپنیوں کے چلائے تیل کے کنوئیں قومیا لئے تھے ۔ ایران کے قدرتی وسائل کی سامراجی کمپنیوں سے بازیابی امریکہ اور برطانیہ کو برداشت نہ ہوئی۔ان کے جاسوس اداروں نے مل کر ایک سازش تیار کی۔ اس کے نتیجے میں مصدق حکومت کے خلاف رجیم چینج کی فضا بنانے کے لئے عوامی مظاہروں کو بھڑکایا گیا۔ سابق شاہ ایران ان دنوں بھی نیم جلاوطنی کی زندگی گزاررہا تھا۔ مصدق حکومت کے خلاف سازشی پشت پناہی سے کروائے ہنگاموں پر قابو پانے کے لئے وہ وطن لوٹنے کو مجبور ہوا اور ڈاکٹر مصدق کی حکومت سے جند چھڑائی گئی۔ایران کے موجودہ حکومتی بندوبست کے بدترین مخالف بھی ڈاکٹر مصدق کی حکومت کے خلاف رچائی اس سازش کو آج بھی نہیں بھولے ہیں۔ حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وہ آسمان سے گرکر کھجورمیں اٹکنے کو آمادہ نہیں۔ امریکی رعونت مگر اجتماعی یادداشت کی بدولت دل ودماغ میں بیٹھے شکوک وشبہات سے قطعاََ بے خبر ہے ۔اجتماعی یادداشت کی بدولت ایران کے قومی مزاج میں غیر ملکی مداخلت کے خلاف موجود شکوک وشبہات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں کی حکومت نے بنیادی طورپر مہنگائی کے خلاف ہوئے مظاہروں کو سازش شمار کیا۔ اس میں حصہ لینے والے غدار وتخریب کار پکارے گئے اور انہیں سختی سے کچلنے کا فیصلہ ہوا۔ ٹرمپ اور سابق شاہ ایران کے فرزند کے بیانات نے ریاستی جبر کے بھرپور استعمال کے جواز فراہم کروئے اور مظاہروں پر جلد ہی قابو پالیا گیا۔مظاہروں پر قابو پانے کے لئے جو ہتھکنڈے استعمال ہوئے ان کے بارے میں ہمارا علم نہ ہونے کے برابر ہے ۔ پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح اپنی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے اگرچہ دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرین کو کچلنے کیلئے ایرانی حکومت نے مبینہ طورپر 32ہزار افراد کو ہلاک کردیا ہے ۔ ناقابل یقین سنائی دیتی اس تعداد کا ذ کر کرتے ہوئے وہ اس حقیقت سے غافل سنائی دیا کہ چند ہی ہفتے قبل اس نے اپنے ہاتھ سے سوشل میڈیا پر لکھے پیغام کے ذریعے ایرانی عوام کو سڑکوں پر نکل آنے کو اُکسایا تھا۔ یوں کرتے ہوئے یقین بھی دلایا کہ امریکہ نے ان کی مددکے جو انتظامات کئے ہیں وہ راستے میں ہیں۔ جس مدد کا وعدہ ہوا وہ ایران مگر پہنچی نہیں۔ ایرانی مظاہرین کی حمایت میں کھڑے ہونے کے بجائے ٹرمپ نے اپنے پرانے شراکت کار سٹیووٹیکوف اور دامادجیرڈ کشنر کے ذریعے ایرانی حکومت سے مذاکرات شروع کردئے ۔ یہ کالم چھپنے تک سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں مذاکرات کا تیسرا دور بھی ختم ہوچکا ہوگا۔جو مذاکرات ہورہے ہیں مقصد ان کا ایران کے موجودہ حکومتی بندوبست کا خاتمہ نہیں۔ ایرانی قیادت کو اس کے برعکس مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا ارادہ ترک کردے ۔ لوگوں کو دکھانے کے لئے بڑھک تو یہ لگائی جارہی ہے کہ ایران کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کو بھول جا ئے ۔ اندر کی خبر مگر یہ ہے کہ ایرانی حکومت کو کینسر جیسے موذی امراض کے علاج کے لئے یورینیم کی ایک مخصوص حد تک افزودگی کی اجازت دی جاسکتی ہے ۔ حیران کن حقیقت یہ بھی ہے کہ ایٹمی پروگرام کے صحت عامہ کے لئے استعمال کی ٹیکنالوجی1970ء کی دہائی کے آغاز میں امریکہ ہی نے ایران کے شاہ ایران کو فراہم کی تھی۔ اسی پروگرام کو اب بین الاقوامی نگرانی میں برقرار رکھنے کے وعدے ہورہے ہیں۔ایران کے روحانی رہ نما نے ایٹم بم کے استعمال کو خلافِ اسلام ٹھہرانے کا فتویٰ دے رکھا ہے ۔اس کا حوالے دیتے ہوئے ایرانی مذاکرات کاربارہا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے روبرو مصر رہتے ہیں کہ ان کا ملک ایٹمی صلاحیت کو ہتھیاروں کی تیاری کے لئے استعمال کرنا نہیں چاہتا۔ بدترین حالات میں اگر یہ ہتھیار تیار کرنا پڑے تب بھی انہیں محض دفاعی حصار کی صورت جمع کیا جائے گا۔ ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ایران لہٰذا امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے مذاکرات کو ہمیشہ آمادہ رہا ہے ۔ اسرائیل نے مگر امریکہ کو اس امر پر مجبور کیا کہ وہ ایران پر محض ایٹمی پروگرام کے حوالے سے دبا ہی نہ بڑھائے خطے میں امن یا مختصراََ اسرائیل کی بقائیقینی بنانے کے لئے لازمی ہے کہ اس کے میزائل پروگرام کو بھی اسرائیل تک رسائی کی صلاحیت سے محروم کردیا جائے ۔بدھ کی صبح ہوئے خطاب میں ٹرمپ نے تاہم ایران کے میزائل پروگرام کو امریکی شہروں کے لئے بھی ممکنہ خطرہ قرار دیا ہے ۔ نظر بظاہر ایران مگر اپنے میزائل پروگرام پر کسی سمجھوتے کو آمادہ نہیں۔امریکی صدر کی فیس سیونگ کے لئے ایٹمی پروگرام پر لچک دکھانے وہ ہمہ وقت تیار ہے ۔ سفارت کاری کی مکار چالوں میں مصروف امریکی مذاکرات کار مگر فراموش کر بیٹھے ہیں کہ محض چند ہفتے قبل ہی ان کے صدر نے ایرانی عوام کو گھروں سے باہر آکر اپنی قیادت کے خلاف مظاہروں کے لئے اُکسایا تھا۔ ٹرمپ کی ہلاشیری نے ایرانی حکومت کو غیر ملکی مداخلت کا ٹھوس جواز فراہم کیا۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مظاہروں کو ریاستی جبر کے بھرپور استعمال سے کچل دیا گیا۔ بقول ٹرمپ 32ہزار افراد بلکہ اس کے ہی لکھے پیغام کے نتیجے میں ہلاک ہوچکے ہیں۔
