وزیراعظم محمد شہباز ...
پاک سعودی عرب دونوں ممالک نے پاکستان کی برآمدی صلاحیت کو بڑھانے اور پائیدار طریقے سے بڑھتی ہوئی علاقائی طلب کو پورا کرنے کے لیے مسابقت کو بڑھانے، پیداوار بڑھانے اور ویلیو چین کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیاہے ۔علاقائی منڈیوں، خاص طور پر وسطی ایشیا، افریقہ اور آسیان ممالک تک رسائی بڑھانے پر بات کی گئی ہے۔پاکستان اور سعودی عرب اپنی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کی پیداواری صلاحیتوں کو فروغ دیں گے اور مارکیٹ تک رسائی اور علاقائی رابطوں کے ساتھ مل کر اپنے آپ کو تکمیلی شراکت دار کے طور پر رکھ سکتے ہیں۔ پاکستان پہلے سے ہی عالمی معیار کو پورا اترتے ہوئے ایکسپورٹ کرتا ہے اور کارپوریٹ پیمانے پر فارمنگ، میکانائزیشن، اسٹوریج اور لاجسٹکس میں سرمایہ کاری سے طویل مدتی انتظامات کے تحت پاکستان سے سعودی عرب کو چاول کی مسلسل برآمدات کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ چارہ (بشمول الفالفا)، گوشت اور منتخب زرعی مصنوعات میں تعاون کا احاطہ بھی کیا گیاہے۔ پاکستان میں برآمدات سے منسلک زرعی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں معاونت کے لیے سعودی مالیاتی اداروں کے ممکنہ کردار کا جائزہ لیا گیاہے۔ کارپوریٹ فارمنگ اور میکانائزیشن کو پیداواری چیلنجوں کے طویل مدتی حل کے طور پر بھی جانچا گیاہے، بشمول کپاس جیسی فصلوں میں، جہاں گرتی ہوئی پیداوار اور اعلیٰ دستی ان پٹ لاگت نے مسابقت کو متاثر کیا ہے۔ ایکسپورٹ پر مبنی سرمایہ کاری کے ماڈلز زرعی پیداوار کو بحال کرنے میں مدد کر سکتے ہیں جبکہ ٹیکسٹائل اور یارن سمیت ان سے منسلک صنعتوں کی حمایت کرتے ہیں۔ سعودی وزیر ابراہیم المبارک نے پیشہ ورانہ تربیت اور ہنر کی ترقی میں سعودی عرب کے تجربے کو شیئر کیا ہے اور پاکستان میں ٹرین ٹو ڈیپلائی ماڈلز کو استعمال کرنے کے لیے کھلے دل کا اظہار کیا ہے۔سعودی فریق نے مصنوعات جیسے چونا پتھر، ماربل، ایگریگیٹس اور دیگر مواد جو مقامی طور پر دستیاب نہیں ہیں کے لیے درآمدی ضروریات پورا کرنے پر بات چیت کی ہے۔ اس بات پربھی اتفاق کیا گیا ہے کہ پاکستانی سپلائرز اور سعودی بلڈنگ میٹریل ٹریڈنگ کمپنیوں کے درمیان توجہ مرکوز کرنے سے براہ راست پرائیویٹ سیکٹر میچ میکنگ کے ذریعے ابتدائی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ دواسازی، کھیلوں کے سامان، جوتے اور ہلکی مینوفیکچرنگ میں تعاون کو وسعت دینے پاکستان کی بڑھتی ہوئی صنعتی بنیاد اور جوائنٹ وینچرز، مینوفیکچرنگ، اور علاقائی اور عالمی منڈیوں کو ہدف بنانے والے اسپلٹ پروڈکشن ماڈلز کی گنجائش کو تسلیم کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیاگیا ہے۔مخصوص ورکشاپس اور بزنس ٹو بزنس مصروفیات کے ذریعے فالو اپ کو آگے بڑھانے کے لیے اتفاق کیا گیا ہے، جس کا مقصد پالیسی کی صف بندی کو ٹھوس تجارتی بہاؤ، سرمایہ کاری کے منصوبوں، اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا، پاکستان اور سعودی عرب کے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔یہ امرحقیقی ہے کہ دنیا مان گئی ہے کہ پاکستان آسمانوں پر راج کرنے والا چیمپئن ہے، ملک کو آگے لے جانے کیلئے میرٹ کو اپنانا ہوگا، لیپ ٹاپ خالصتاّ میرٹ پر دیئے جا رہے ہیں، نوجوان پاکستان کا روشن مستقبل ہیں۔ لیپ ٹاپ میرٹ کی بنیاد پر دیئے جا رہے ہیں۔ لیپ ٹاپ سکیم کا آغاز اس وقت کے پنجاب کے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے 2011 میں کیا، جب وفاق میں وزیراعظم محمد نوازشریف کی حکومت آئی تو انہوں 2013 میں پورے پاکستان کے لئے اس سکیم کا آغاز کیا اور انتہائی کامیابی کے ساتھ جاری رہا لیکن بدقسمتی سے 2018 میں اس کو بند کردیا گیا اور چار سال بند ہونے کے بعد 2022 میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس پروگرام کو دوبارہ بحال کیا۔ محمد نواز شریف کے وژن اور وفاقی حکومت کی پالیسیوں کو ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت نے ہمیشہ اداروں کے استحکام، قانون کی حکمرانی اور معاشی بہتری کے لئے عملی اقدامات کئے گئے ہیں۔ وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر چل رہا ہے، یہ اسکیم سو فیصد میرٹ پر مبنی ہے۔اس ملک کا مستقبل نوجوان ہیں اور انہوں نے ہی اس ملک کو چلانا ہے، اس لیے جوانوں پر سرمایہ کاری ملک کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔ سب کو امن کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا، جب امن ہوگا تو تعلیم بھی حاصل کریں گے، روزگار بھی ہوگا، اس لیے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ گزشتہ سال مئی میں بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے دفاع پاکستان مضبوط ہاتھوں میں ہے، افواج پاکستان نے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم محمدشہباز شریف کی قیادت میں اپنے آپ سے دس گنا بڑے دشمن کو ایسی شکست دی کہ وہ یاد رکھیں گے، اس وقت لوگوں میں ایک جذبہ دیکھا جو قابل دید تھا، اگر یہ جذبہ ایمانی ہے تو پاکستان کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اگر پاکستانیت کا جذبہ نہ ہو تو کچھ نہیں رہے گا، یہ ملک ہوگا توسب ہوں گے۔معیاری طبی تعلیم اور تحقیق وقت کی اہم ضرورت ہے اور حکومت اس شعبے کی بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے۔ ملک بھر میں طبی تعلیم کا فروغ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ وفاقی حکومت تعلیمی اداروں کی استعداد کار بڑھانے اور درپیش مسائل کے حل کیلیے سنجیدہ اقدامات کررہی ہے۔
