menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

شاہی درباروں سے سڑکوں تک، خواجہ سرا برادری کا دردناک سفر

36 0
02.05.2026

سعیدخان جھگڑا برصغیر کی تاریخ میں خواجہ سرا برادری ایک ایسے طبقے کی حیثیت رکھتی ہے جس نے وقت کے ہر رنگ کو دیکھا ہے ،عزت بھی، اختیار بھی، زوال بھی اور بے بسی بھی۔ ایک دور وہ تھا جب یہ لوگ مغلیہ سلطنت کے ایوانوں میں محض قابل احترام ہی نہیں بلکہ ریاستی نظام کے اہم ستون سمجھے جاتے تھے، اور آج یہی برادری سماجی نفرت، معاشی محرومی، تشدد اور عدم تحفظ کے اندھیروں میں کھڑی ہے۔ یہ تضاد صرف وقت کی تبدیلی نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں کی تلخ داستان بھی ہے۔ ماضی کے خواجہ سرا: بااعتماد اور بااختیار طبقہ مغل دور میں خواجہ سرا افراد کو شاہی دربار میں غیر معمولی اہمیت حاصل تھی، وہ صرف محل کے خادم نہیں تھے بلکہ سلطنتی نظام کا اہم حصہ اور بااختیار ستون سمجھے جاتے تھے۔

خواجہ سراؤں کی ذمہ داریوں میں شاہی حرم کی نگرانی، بادشاہ اور شاہی خاندان کے معتمد معاون کی حیثیت سے خدمات انجام دینا، شہزادوں اور شہزادیوں کی تربیت، خفیہ پیغامات کی ترسیل، مالی و انتظامی امور کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ سیاسی مشاورت اور دربار میں اثر و رسوخ قائم رکھنا بھی شامل تھا۔ کئی خواجہ سرا ایسے تھے جنہیں جاگیریں، عہدے اور شاہی اعزازات حاصل تھے، وہ طاقتور لوگوں میں شمار ہوتے تھے اور ان کی بات اہم سمجھی جاتی تھی۔ زوال کا آغاز کب ہوا؟ برطانوی راج کے دوران خواجہ سرا برادری کی حیثیت بدل گئی، نوآبادیاتی قوانین نے انہیں شک، تضحیک اور جرم کے ساتھ جوڑ دیا۔1871 کے قانون Criminal Tribes Actنے اس کمیونٹی کو........

© Mashriq