پشاور میں تجاوزات آپریشن: مسماری کے ساتھ احتساب بھی ضروری!
سید قیصر شاہ مسمار تو کر دی ہے عمارت سرِ راہ پر سوچ کہ بننے کی اجازت دی کس نے؟ پوچھتے کیا ہو مری تعمیر کا اے اہلِ خرد وہ بنانے والے ہی تھے جو مٹا کر چل دیے
پشاور میں تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف جاری کارروائی نے شہر میں شہری منصوبہ بندی، سرکاری اداروں کی ذمہ داریوں اور عوام کے قانونی حقوق سے متعلق ایک اہم بحث چھیڑ دی ہے، ضلعی انتظامیہ کے مطابق اب تک 500 سے زائد دکانوں، مارکیٹوں اور دیگر تعمیرات کو مسمار کیا جا چکا ہے، جبکہ کارروائی کا دائرہ رنگ روڈ کے مختلف مقامات سے آگے بڑھانے اور اندرونِ شہر کے بازاروں تک لے جانے کا فیصلہ ہوا ہے۔
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس کارروائی کا مقصد سرکاری زمین واگزار کرانا، سڑکوں کی مقررہ حدود بحال کرنا، ٹریفک کی روانی بہتر بنانا اور شہریوں کو آمدورفت میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ بظاہر یہ ایسے مقاصد ہیں جن کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، کسی بھی شہر میں سڑکوں، فٹ پاتھوں اور عوامی گزرگاہوں پر غیر قانونی قبضے شہری زندگی کو متاثر کرتے ہیں اور ان کے خاتمے کے لیے قانون کے مطابق اقدامات ضروری ہو سکتے ہیں۔ اس سارے معاملے کا دوسرا پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے، جب کسی دکان، مارکیٹ یا عمارت کو برسوں قائم رہنے کے بعد غیر قانونی قرار دے کر مسمار کیا جائے، اس صورتحال میں صرف یہ سوال کافی نہیں کہ تعمیر کس نے کی، یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ تعمیر کے وقت متعلقہ ادارے کہاں تھے، نگرانی کی ذمہ داری کس پر تھی اور اگر کسی سرکاری اہلکار نے غفلت برتی تو اس کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟
ضلعی انتظامیہ کے مطابق کارروائی کا آغاز گڑھی قمر دین سے ہوا اور جمیل چوک، پیر زکوڑی فلائی اوور، پشتخرہ چوک اور رنگ روڈ کے دیگر حصوں تک پھیلایا گیا، پھر اس صورتحال میں ڈپٹی کمشنر پشاور آفاق وزیر نے بھی واضح کر دیا کہ سرکاری زمین اور عوامی گزرگاہوں کو واگزار کرانے کے لیے کارروائی جاری رہے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ واگزار کرائی گئی زمین پر........
