غزہ امن بورڈ ، حقیقت یا سراب
بیس ملکوں کے غزہ امن بورڈ معاہدہ پر وزیر اعظم شہباز شریف کے دستخط کے بعد حصہ بننے پرحزب اختلاف کی تنقید اور یہ اعتراض کہ اس پرایوان میں بحث تو درکنار کابینہ کے اجلاس میں بھی اس پرگفتگو سے گریز کیا گیا ہے اہم اور قابل قبول اعتراض ہے۔
مشکل امر یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اہم فیصلے اکثر بغیر مشاورت کے ہی ہوتے آئے ہیں، جس کی دیگر وجوہات کے علاوہ ایک معقول وجہ مشاورت کی بجائے خواہ مخواہ مخالفت اور ہر قیمت پر تنقید اور مخالفت کا رویہ ہے، غزہ امن بورڈ پراب جبکہ دستخط بھی ہو چکے، مگر اس کے باوجود یہ پوشیدہ راز ہی ہے کہ اس کے خدوخال کیا ہوںگے، ہمارے تئیں لاعلمی میں کسی چیز کی حمایت اور مخالفت دونوں میں محتاط رہنا ہی بہتر حکمت عملی ہوگی۔
بہرحال حکومت اس کی حامی اور حزب اختلاف اور عوام کی بڑی تعداد کو اس لاعلمی کے باوجود اس کی مخالفت گرداننے کی بڑی وجوہات ہیں، سیاسی طور پر مخالفت جانچنے کا پیمانہ اپنی جگہ عوامی سطح پر اس کی مخالفت کاایک واضح پیمانہ ہر اس فورم پر جہاں اسرائیل اوراس کا کوئی نمائندہ موجود ہو پاکستان کے عوام اسے قبول کرنے کو ذہنی طور پر قبول کرنے کے لئے کبھی........
