menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

یورپی بحران

18 0
25.10.2026

کسی معاشرے کی حقیقی خوش حالی کا تعین اس کی فلک بوس عمارتوں، جدید شاہراہوں، مستحکم مالیاتی اداروں یا منڈیوں کی وسعت سے نہیں، بلکہ اس امر سے ہوتا ہے کہ اس کے عام شہری کو زندگی کی بنیادی ضرورتیں کس قدر آسانی سے میسر ہیں۔

اگر ترقی کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود ایک محنت کش اپنی آمدن میں گھر کا کرایہ، خوراک، ایندھن، تعلیم اور علاج کے اخراجات پورے کرنے سے عاجز ہو تو قومی ترقی کے خوش نما اشاریے اپنی معنویت کھونے لگتے ہیں۔

اکتوبر 2026کے وسط میں یورپ کے متعدد ممالک میں ابھرنے والی احتجاجی لہر اسی بنیادی تضاد کی عکاسی کرتی ہے۔ فرانس، بلجیم، اٹلی، پرتگال اور البانیہ میں مختلف محرکات کے تحت سامنے آنے والے مظاہروں نے یہ سوال ازسرِنو زندہ کر دیا ہے کہ کیا جدید فلاحی ریاست اپنے شہریوں کو معاشی تحفظ، سماجی انصاف اور باوقار زندگی کی ضمانت دینے کی صلاحیت برقرار رکھ سکی ہے؟

رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی تازہ رپورٹوں کے مطابق ان احتجاجی سرگرمیوں میں مہنگائی، ایندھن کی گرانی، رہائش کی عدم استطاعت اور عوامی خدمات کے معیار سے متعلق شکایات نمایاں ہیں۔

یورپ کو طویل عرصے تک اس سماجی و معاشی نظام کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے جس میں سرمایہ دارانہ معیشت کے ساتھ عوامی بہبود، محنت کشوں کے حقوق، سماجی تحفظ اور ریاستی جواب دہی کو بھی اہمیت دی جاتی........

© Express News