سندھ کی تقسیم اور اس پر اعتراضات
موجودہ سندھ مختلف ادوار میں کبھی ایک ریاست تو کبھی ایک سے زیادہ ریاستوں کی شکل میں رہی ہے، تاہم اس کی وحدت کو اس طرح کے سنگین خطرات پہلے کبھی نہ تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلی بار مغلوں کے دور میں دو اور اس کے بعد تالپور خاندان کے دور میں سندھ کو تین ریاستوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔
تالپور دور میں سندھ کی تقسیم اور ان کے اہم مراکزحیدرآباد (زیریں/وسطی سندھ) مرکزی اور سب سے طاقتور ریاست حیدرآباد سے کنٹرول ہوتی تھی، جہاں تالپور خاندان کے چار بھائی (چو یاری کہلاتے تھے) حکمران تھے۔خیرپور (بالائی سندھ) شمالی سندھ کا حصہ میر سہراب خان تالپور کے زیر انتظام خیرپور ریاست کے طور پر قائم رہا۔میرپور خاص (مشرقی سندھ) مشرقی اور خوشحال میدانی علاقوں پر مشتمل یہ ریاست میر ٹھارو خان ٹالپور اور ان کی اولاد کے پاس تھی۔ اس طرح سندھ کے اندر یہ تینوں ریاستیں الگ الگ طور پر قائم تھیں۔
انگریزوں نے حیدرآباد کی ریاست کو 1843 میں فتح کیا۔ انگریزوں نے سر چارلس نیپیئر کی قیادت میں 17 فروری 1843 کو حیدرآباد کے قریب میانی اور پھر 24 مارچ 1843 کو ’’دبو‘‘ کی جنگ میں تالپوروں کو شکست دی اور میرپور خاص کی ریاست........
