خلیج میں تیل کی سیاست اور اس کے اثرات
اٹھائیس فروری دو ہزار چھبیس میں جب امریکا نے ایران پر میزائل حملہ کیا تو یہ نہ صرف ایک بڑی جنگ کا آغاز تھا بلکہ اس کے پس منظر میں مزید واقعات ایسے ہوئے جس نے خلیج فارس کے ممالک کی اسٹرٹیجک اور معاشی صورتحال پر غیر معمولی اثر ڈالا۔
تنازعہ تو اسرائیل امریکا ایران کا تھا مگر بہت سے پرانے تنازعات نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو بھی ایک دوسرے کے مد مقابل لاکھڑا کر دیا جس سے نہ صرف معاشی بلکہ تزویراتی صورتحال تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے۔
دوسری جانب جنگ کے اثرات دنیا بھر کے میڈیا اور دارالحکومتوں میں زیر بحث تھے۔ سفارت کار امن کی بحالی کے لیے کوششیں کر ہی رہے تھے کہ اچانک امارات کے اوپیک سے نکلنے کے فیصلے نے سب کو حیران کر دیا۔ جس نے یکم مئی دو ہزار چھبیس کو اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ دراصل سعودی عرب اور عرب امارات کی پرانی رنجشوں کا شاخسانہ ہے دونوں کے درمیان تنازعات خصوصا، لیبیا، یمن، صومالی لینڈ اور سوڈان کے معاملات میں اختلافات پہلے سے چلے آرہے تھے اورممکنہ طور پر اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ بھی اس سے ہی پیوستہ ہے۔
اوپیک دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنیوالے ممالک کا کارٹیل ہے جو دنیا بھر کو تقریبا چھتیس فیصد تیل سپلائی کرتا ہے، یعنی تقریبا تیس ملین بیرل یومیہ۔ سعودی عرب اس ادارے پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والا ملک ہے اور اسے ہی غیر رسمی سربراہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ وہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اپنی تیل کی پیداواری صلاحیت سے تیس سے چالیس فیصد پیداوار میں کمی بیشی کر سکتا ہے، یہ صلاحیت دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں۔
متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے نکلنا سعودی عرب کے لیے........
