پہاڑوں میں اربوں ڈالر کے موتی
پاکستان اکثر قیمتی پتھروں کو زمین سے نکالتا ہے۔ گرد، دھول مٹی صاف کرتا ہے اور اسے خام حالت میں ہی عالمی مارکیٹ میں سستے داموں بیچ دیتا ہے۔ پھر وہی پتھر دبئی، تھائی لینڈ یا ہانگ کانگ میں تراشا جاتا ہے، عالمی معیار کے مطابق ڈھالا جاتا ہے، پھر یہ پالش شدہ پتھر بن جاتا ہے، چمکتا دمکتا پتھر، سرٹیفائیڈ پتھر۔کٹنگ پالشنگ کے مراحل سے گزرکر عالمی معیار کے سرٹیفکیٹ سے مزین ہو کر عالمی منڈیوں میں لاکھوں ڈالر میں نیلام کر دیا جاتا ہے تو پھر ہمارے ہاتھ کیا رہ جاتا ہے، فقط چند سو ڈالر اور دوسرے ممالک کے ایئرپورٹ،کاروباری ذہن، ڈیزائنر، صنعتی مہارت اور ملک کے پالیسی ساز مل کر ان پتھروں کے سہارے قیمتی جیولری حب بن جاتے ہیں اور وہ ملک اربوں ڈالرکی برآمدات کی سطح پر آجاتا ہے۔ انھی اربوں ڈالر کی بات گزشتہ دنوں پاکستان میں کی گئی۔
خبر کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان کے پاس 450 ارب ڈالر کا قدرتی خزانہ قیمتی پتھروں کی شکل میں موجود ہے اور حکومت نے اس شعبے کو فعال بنانے کے لیے 5 سالہ منصوبہ تیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے تحت 610 ایکسپورٹرز کو بین الاقوامی منڈیوں اور نمائش میں شرکت کے لیے اپنی مصنوعات پیش کرنے کی سہولت دی جائے گی تاکہ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہو اور ملک کو زیادہ ڈالر حاصل ہوں۔
اس سلسلے میں حکومت پاکستان نے قیمتی اور نیم قیمتی پتھروں کی برآمدات کو منظم اور........
