menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

2026 کا ورلڈ کپ اور دہرے معیار کی عالمی کھیپ

12 0
wednesday

2026 کا فیفا ورلڈ کپ ہم سے ایک ایسے شاندار اور آفاقی میلے کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا جہاں دنیا بھر کی اقوام کثیرالاقوامی کارپوریٹ اسپانسرز کی ٹیکس سے مبرا چھتری تلے، ایک ہری بھری گھاس پر گیند کو ٹھوکر مارنے کے لیے جمع ہوتی ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ ٹورنامنٹ ایک ایسا سفاکانہ اور طبقاتی جیو پولیٹیکل نظام بن چکا ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ اگرچہ کھیل کے میدانِ جنگ یعنی گراؤنڈ پر تمام ٹیمیں برابر ہیں، لیکن وی آئی پی لاؤنجز اور ایگزیکٹو بورڈ رومز میں کچھ لوگ دوسروں سے زیادہ ’برتر‘ ہیں۔

اگر آپ کا تعلق دنیا کے کسی پسماندہ کونے سے ہے، تو امیگریشن حکام آپ کے پاسپورٹ کو یوں دیکھتے ہیں جیسے وہ کوئی خطرناک جراثیم زدہ دستاویز ہو، جبکہ مراعات یافتہ خطوں کے وفود اس طرح دندناتے پھرتے ہیں جیسے انہیں حقیقت سے بھی سفارتی استثنیٰ حاصل ہو۔

آپ ذرا افریقہ، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں پھیلے ہوئے ویزا دفاتر کے چکر کاٹ کر اس سفاکانہ بیوروکریٹک تماشے کا خود مشاہدہ کریں۔ شائقین، صحافی، اور یہاں تک کہ ٹیموں کے معاون عملے کو بھی انتظامی ہتھکنڈوں کے ذریعے ذہنی اذیت دی جاتی ہے۔ مراکش کے قومی فٹ بال شائقین کی ایسوسی ایشن کا وہ دردناک معاملہ ہی دیکھ لیں، جس کے 42 میں سے 40 ارکان، جن کے پاس سفر کا بہترین ریکارڈ، ہوٹلوں کی پیشگی بکنگ اور ٹکٹوں کے لیے لاکھوں روپے موجود تھے، کو امریکی قونصل خانوں نے من مانی بنیادوں پر ویزوں سے محروم کردیا۔

سینیگال کے کپتان کالیڈو کولیبالی کو خود یہ کہنا پڑا کہ آخر افریقی ٹیموں کو آدھے خالی اسٹیڈیمز میں کیوں کھلایا جا رہا ہے جبکہ ان کے اپنے لوگوں کو سرحدوں پر ہی روک دیا گیا ہے۔ دوسری طرف کیپ وردی کے گول کیپر جوزیمار ’وازینہ‘ ڈیاس نے انکشاف کیا کہ طویل بیوروکریٹک دیواروں اور اخراجات نے ان کی بوڑھی ماں تک کو اپنے بیٹے کو عالمی........

© Express News (Blog)