menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

قومی بجٹ اور 26 ملین بچے

21 0
10.06.2026

26 ملین، ذرا رکیں، سانس لیں اور اس عدد کو محسوس کریں۔ یہ اس ملک کے مستقبل کا وہ حصہ ہے جو اسکول کی دہلیز تک نہیں پہنچ پایا۔

تصور کیجیے، یہ 26 ملین بچے آسٹریلیا کی پوری آبادی سے زیادہ، اور سری لنکا کی آبادی سے تین گنا زیادہ ہیں ۔ یہ وہ بچے ہیں جو اس وقت کھیتوں میں بیگار کاٹ رہے ہیں، بھٹوں کی تپش سہہ رہے ہیں، کوڑے کے ڈھیروں سے اپنی زندگی تلاش کر رہے ہیں، یا چائے کے ہوٹلوں پر بچپن گروی رکھ کر پیالے دھونے پر مجبور ہیں۔

​شہرِ اقتدار اسلام آباد کے مضافات میں نو سالہ عمر جیسے ملک بھر میں کروڑوں بچے ہر صبح کاندھے پر کٹا ہوا تھیلا لٹکائے زندگی کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ ان کے گھروں میں فاقہ کشی ہے، باپ کا سایہ سر پر نہیں، اور گھر کا چولہا انہی بچوں کی مزدوری سے گرم ہوتا ہے۔ انہیں یہ خبر ہی نہیں کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 25-A انہیں مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے۔ شاید ان کا اس حق سے لاعلم رہنا ہی غنیمت ہے، ورنہ یہ جان کر کہ ریاست نے انہیں یہ حق دیا مگر ادا نہیں کیا، ان کی تکلیف میں مزید کرب شامل ہو جاتا۔

​پاکستان کی 45 فیصد آبادی خطِ غربت کے نیچے سانس لے رہی ہے۔ ایک غریب باپ جب دن بھر مزدوری کر کے تھکا ہارا گھر لوٹتا ہے، تو اس کی آنکھوں میں ایک ہی سوال مچل رہا ہوتا ہے ’’کیا میرا بچہ کل اس سے........

© Express News (Blog)