menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

محمد علی جناح واقعی قائداعظم تھے

16 0
18.09.2026

11 ستمبر 1948 بروز ہفتہ، رات دس بج کربیس منٹ پر کراچی کے گورنر ہاؤس میں اس شخص نے اپنی زندگی کی آخری سانس لی جسے آج دنیا قائداعظم کے نام سے جانتی ہے۔ 

ان کا نام تو محمد علی جناح تھا لیکن ان کی بے مثال رہنمائی، پرخلوص اور انتھک جدو جہد کی بدولت انہیں قائد اعظم کہا جاتا ہے اور یہ بات یاد رہے کہ وہ صرف نام کے نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں بہت بڑ ے لیڈر تھے، جنہوں نے بیک وقت انگریزوں، ہندوؤں، سکھوں اور اپنی صفوں میں چھپے دشمنوں سے چومکھی لڑائی لڑ کر برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا حصول ممکن بنایا۔

بظاہر یہ ایک دیوانے کا خواب لگتا تھا، لیکن اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بیماری کی نہ صرف پرواہ نہیں کی بلکہ لوگوں کو اس کی بھنک بھی نہیں پڑنے دی کہ کہیں نئے ملک پاکستان کا قیام کھٹائی میں نہ پڑ جائے اور اپنا مقصد پورا کر لینے کے بعد آخرکار ٹی بی اور کینسر سے جان کی بازی اس وقت ہار گئے جب پاکستان کو معرض وجود میں آئے ہوئے صرف 13 مہینے ہی ہوئے تھے۔

اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے اپنی جان پاکستان پر قربان کردی تو یہ بے جا نہ ہوگا، کیوں جب آرام کی سخت ضرورت تھی وہ اس وقت بھی لگاتار اور دن رات کام کرتے رہے، جس سے بیماری بہت پھیل گئی اور وہ 71 برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے۔

قائداعظم نے خود بھی ایمان، اتحاد اور نظم کو اپنی زندگی کا شعار بنایا اور اپنی قوم کو بھی اس کا سبق دیا۔ وقت کی پابندی کا یہ حال تھا کہ ان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح فرماتی ہیں کہ ان کی زندگی گھڑی کے کانٹوں پر چلتی تھی۔ جہاں جانا ہوتا وہاں 5 منٹ پہلے پہنچ جاتے تاکہ میزبان کو انتظار نہ کرنا پڑے۔ پاکستان بننے کے بعد ایک میٹنگ میں ایک وزیر 7 منٹ لیٹ پہنچے تو قائد اعظم نے کہا کہ قوم کے لیے ایک ایک منٹ قیمتی ہے اور آپ پورے سات منٹ لیٹ پہنچے ہیں۔ اس کے بعد قائد اعظم کی کسی........

© Express News (Blog)