چار صوبے، ایک بحران: راستہ کہاں ہے؟
پاکستان میں نئے صوبوں کی بات کوئی نئی بات نہیں۔ کبھی جنوبی پنجاب کا نعرہ سنائی دیتا ہے، کبھی ہزارہ صوبے کی بات ہوتی ہے اور کبھی ملک کے دوسرے حصوں سے بھی انتظامی بنیادوں پر نئی اکائیوں کی آواز اٹھتی ہے۔ اس بحث میں سیاست بھی شامل ہے، شناخت کا سوال بھی اور اقتدار کی تقسیم کا معاملہ بھی۔ لیکن میرے خیال میں اس وقت ہمیں اس بحث کو ایک اور زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں صوبے چار ہوں، چھ ہوں یا دس۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری موجودہ انتظامی تقسیم عام آدمی کی زندگی آسان بنا رہی ہے؟ کیا اس سے روزگار پیدا ہو رہا ہے؟ کیا دور دراز علاقوں میں صنعت، کاروبار اور سرمایہ کاری پہنچ رہی ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر انتظامی ڈھانچے پر دوبارہ غور کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ایک پرانی حکایت ہے کہ ایک بہت بڑے محلے میں کھانا پکانے کی ذمہ داری ایک ہی باورچی کے پاس تھی۔ وقت گزرتا گیا، محلہ پھیلتا گیا، گھروں کی تعداد بڑھتی گئی، مگر باورچی وہی ایک رہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ گھروں تک کھانا وقت پر پہنچتا اور کچھ انتظار ہی کرتے رہ جاتے۔ لوگ باورچی کو برا بھلا کہنے لگے۔ ایک بزرگ نے کہا کہ شاید مسئلہ باورچی نہیں، انتظام کا ہے۔ جب ذمے داری بہت بڑے حصے پر ڈال دی جائے تو اچھا آدمی بھی ہر شخص تک نہیں پہنچ سکتا۔ پاکستان کے بڑے صوبوں کے بارے میں بھی یہ مثال کچھ نہ کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ آج پاکستان کو جن معاشی مشکلات کا سامنا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق مالی سال 2025-26 میں ملکی معیشت کی حقیقی شرح نمو 3.70 فیصد رہی، جبکہ فی کس آمدنی تقریباً 1,901 ڈالر ہے۔ بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد اور اوسط ماہانہ اجرت تقریباً 39 ہزار روپے رپورٹ ہوئی۔ یہ اعداد صرف اعداد نہیں، ان کے پیچھے لاکھوں گھرانوں کی پریشانی ہے۔ ایک نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت ڈھونڈ رہا ہے، ایک چھوٹا کاروباری شخص بجلی، ٹیکس اور سرمایہ کی مشکلات سے........
