کیا، کیوں، کیسے، کتنا، کہاں تک؟
سائنس کی تاریخ کو اگر صرف دریافتوں کی تاریخ سمجھا جائے تو اس کا ایک اہم حصہ ہماری نظروں سے اوجھل رہ جاتا ہے۔ سائنس صرف نئے جوابات تلاش کرنے کا نام نہیں بلکہ اس عمل کا نام بھی ہے جس میں ہم بار بار یہ طے کرتے ہیں کہ کون سا سوال پوچھنا ہے، کس مشاہدے کو معتبر سمجھنا ہے، کس ثبوت کو کافی ماننا ہے اور کس مقام پر اپنے یقین پر نظرِثانی کرنی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں Epistemology، سائنسی طریقۂ کار اور جدید مصنوعی ذہانت ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔
طب اور ادویات میں یہ تعلق غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے ، کیونکہ یہاں علم کبھی محض علمی سرمایہ نہیں ہوتا۔ ایک غلط مفروضہ مریض کی تشخیص بدل سکتا ہے، ایک کمزور ثبوت کسی دوا کے بارے میں غلط فیصلہ کروا سکتا ہے، ایک نظر انداز کیا گیا سیفٹی سگنل مریض کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے، اور ایک غلط اعتماد ہزاروں مریضوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے طبی سائنس کا اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ہم کیا جانتے ہیں؟ بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم کیسے جانتے ہیں کہ جو کچھ ہم جانتے ہیں، کیا وہ واقعی قابلِ اعتماد ہے؟ یہی فرق معلومات اور فہم، سائنسی پختگی اور محض یقین کے درمیان لکیر کھینچتا ہے۔
ایک نئی دوا کے کلینکل ٹرائلز میں دس ہزار مریض شامل ہوں اور نتیجہ شماریاتی طور پر مضبوط نکلے تو بظاہر ہمارے پاس ایک بہت اچھا ثبوت موجود ہے۔ لیکن اس کے باوجود کئی سوال باقی رہتے ہیں۔ ان مریضوں کا انتخاب کیسے ہوا؟ کن مریضوں کو شامل نہیں کیا گیا؟ کیا مطالعے کی مدت اتنی طویل تھی کہ دیر سے ظاہر ہونے والے نقصانات سامنے آسکتے؟ کیا دوا کا اثر وہ تھا جو مریض کے لیے واقعی اہم تھا یا صرف وہ جسے آسانی سے ناپا جاسکتا تھا؟ کیا منفی نتائج بھی پوری طرح سامنے آئے؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا کلینکل ٹرائلز میں حاصل ہونے والا علم حقیقی دنیا کے ان لاکھوں مریضوں پر بھی اسی طرح لاگو ہوگا جو عمر، بیماریوں، دوسری ادویات، خوراک اور طرزِ زندگی کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے؟
یہ سوال تحقیق کے نتائج کو رد نہیں کرتے بلکہ انہیں ان کے درست مقام پر رکھتے ہیں۔ یہی سائنسی ذہن کی اصل طاقت ہے۔ ثبوت کو قبول کرنا مگر ثبوت کے ساتھ اس کی حدود کو بھی دیکھنا۔ کلینیکل ٹرائل ہمیں مضبوط ثبوت دے سکتا ہے مگر حقیقی دنیا میں دوا کے استعمال کا تجربہ اس علم میں ایک نئی تہہ کا اضافہ کرتا ہے۔ اسی لیے منظوری کسی دوا کے بارے میں علم کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ وسیع پیمانے پر استعمال کے بعد ایسے غیر معمولی ایڈورس ایفکیٹ یا پیشنٹ پاپولیشن سامنے آسکتے ہیں جو پری اپروول اسٹڈی میں دکھائی نہ دیے ہوں۔ فارماکو ویجیلینس اسی لیے محض ایڈروس ایونٹ رپورٹ جمع کرنے کا انتظامی عمل نہیں، یہ طبی علم کی مسلسل اصلاح کا ایک ذریعہ ہے۔ محفوظ دوا وہ نہیں جس کے بارے میں کوئی خطرہ معلوم نہ ہو ، بلکہ محفوظ نظام وہ ہے جو خطرے کے ظاہر ہوتے ہی اسے پہچاننے ، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
اس پوری علمی کوشش میں........
