menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

امریکا، ایران اور ایک نامکمل جنگ

13 0
13.06.2026

بین الاقوامی سیاست میں بعض جنگیں میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر جیتی اور ہاری جاتی ہیں۔ طاقتور ریاستیں جب کسی ملک کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کرتی ہیں تو ان کے پیشِ نظر چند واضح سیاسی، عسکری اور سفارتی اہداف ہوتے ہیں۔

اگر یہ اہداف حاصل نہ ہوں تو بظاہر عسکری برتری رکھنے والی قوت بھی خود کو ایک ایسی صورتحال میں پاتی ہے جہاں فتح کے دعوے کے باوجود اسے سیاسی ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آج امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کئی برسوں سے جاری اس تنازعے نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری کو بھی متاثر کیا ہے۔ بظاہر دونوں فریق جنگ سے بچنا چاہتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایسی سیاسی اور نفسیاتی کیفیت کا شکار ہیں جو انہیں آسانی سے کسی معاہدے تک پہنچنے نہیں دے رہی۔

امریکا کی ایران پالیسی کا بنیادی مقصد ہمیشہ سے ایرانی جوہری پروگرام کو محدود کرنا، خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنا اور ایسی سیاسی تبدیلیاں پیدا کرنا رہا ہے جو واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کے لیے قابلِ قبول ہوں۔ لیکن گزشتہ دو دہائیوں کے تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایران نہ صرف اپنی ریاستی ساخت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ مختلف بحرانوں کے باوجود اس نے اپنی علاقائی موجودگی کو بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہونے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا کے سامنے آج سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر اتنے برسوں کی پابندیوں، دباؤ اور عسکری خطرات کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے تو آگے کا راستہ کیا ہوگا؟

ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں ایران کے خلاف سخت ترین پابندیاں عائد کی گئیں۔ جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اختیار کی گئی اور یہ امید کی گئی کہ شدید معاشی دباؤ ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ایرانی معیشت ضرور شدید مشکلات کا شکار ہوئی، عوامی زندگی متاثر ہوئی، مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا، مگر ایرانی ریاست برقرار رہی۔ یہی وہ حقیقت ہے جو آج امریکی پالیسی سازوں کے لیے سب........

© Express News (Blog)