menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Musalihat Na Sikha Mujhe Jabr e Na Rava Se Mujhe

46 0
11.03.2026

مصالحت نہ سکھا جبرِ ناروا سے مجھے

اِس وقت آدھی دنیا جنگ کی لپیٹ میں آ چکی ہے، دنیا بھرکی ایوی ایشن اور ٹورازم انڈسٹری برباد ہوچکی، اسرائیل، امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو کھربوں ڈالر کا نقصان ہوچکا، سیاحت اور شاپنگ کے عالمی مراکز ویران ہوچکے اور ہر ملک کی معیشت لڑکھڑا رہی ہے، کیا دنیا کے طاقتور ترین شخص کا ہدف یہی تھا کہ دنیا کا نقشہ ایسا ہوجائے۔ نہیں وہ ایسا نہیں چاہتا تھا۔

اگر سُپر پاور کی ہر خواہش پوری ہوتی تو آج ویت نام پر امریکی پرچم لہرا رہا ہوتا، افغانستان پر اس کا قبضہ ہوتا، کیوبا اس کی ریاست ہوتا اور ایران پر امریکا اور اسرائیل کا کوئی کٹھ پُتلی حکومت کررہا ہوتا۔ مگر ایسا نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ سُپر پاور سے بڑی سپریم پاور بھی موجود ہے کہ پورے کرۂ ارض کا کنٹرول جس کے قبضۂ قدرت میں ہے اور اس جہانِ رنگ و بو میں بالآخر وہی ہوتا ہے جو اُس سپریم پاور کو منظور ہوتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران کی رہائشی آبادی پر وحشیانہ بمباری کرکے ہزاروں بے گناہ شہریوں کو ہلاک کردیا ہے، سیکڑوں معصوم طالبات کو بھی خاک وخون میں نہلا دیا ہے، ایران کے راہبر سیّد علی خامینائی سمیت صفحۂ اوّل کے سول اور عسکری لیڈروں کو شہید کردیا ہے، مگر وہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اس لیے کہ نہ ایران میں حکومت کی گرفت کمزور ہوئی ہے، نہ وہاں پھوٹ ڈالی جاسکی ہے اور نہ ہی کوئی کٹھ پتلی مسلّط کیا جا سکا ہے۔ ایرانی قوم نے آہنی عزم واستقلال کا مظاہرہ کرتے ہوئے قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی یاد تازہ کردی ہے۔ اکیسویں صدی کے چنگیز خان اور ہٹلر نہیں جانتے تھے کہ ایران وینزویلا نہیں ہے، اُن کا سامنا بدرو حنین کے ان سرفروشوں کی اولاد سے ہے جو اپنے سے دس گنا بڑی سپر پاور کو پیغام بھیجتے تھے کہ "یاد رکھو تمہارا مقابلہ اسلام کے ان جانثاروں سے ہے جنھیں موت اتنی ہی عزیز ہے جتنی تمہیں زندگی۔ " نیتن اور ٹرمپ نہیں جانتے تھے کہ اُن کا پالا شہدائے کربلا کے وارثوں سے پڑا ہے جن کے لیے........

© Daily Urdu