Hikmat Aur Danai (2)
بلاشبہ حکمت اور دانائی کے خزانے کسی انسان سے نہیں قرآن سے ملتے ہیں۔ منفرد نثر نگار اور معروف کالم نگار جناب ہارون الرشید نے کئی بار اپنے کالموں میں ذکر کیا ہے کہ وہ جب بھائی جان جسٹس (ر) افتخار احمد چیمہ صاحب سے ملے تو انھوں نے بتایا کہ بیرسٹری کی تعلیم کے دوران لنکنزاِن میں ان کے انگریز استاد کہا کرتے تھے کہ "قانونِ وراثت ہم نے قرآن سے سیکھا ہے اور ویلفیئر اسٹیٹ کا تصوّر ہم نے عمرؓ دی گریٹ سے لیا ہے"
جب وراثت کی آیات نازل ہوئیں تو نبی کریمﷺ کے بڑے سے بڑے دشمن بھی اعلانیہ کہنے لگے کہ اتنا پیچیدہ اور انصاف پر مبنی قانون، صرف مکّہ کا کوئی انسان ہی نہیں بلکہ پورے عرب کا کوئی پڑھا لکھا شخص بھی نہیں بنا سکتا۔
کنبے اور خاندان کے ہر فرد کا حصہ اس طرح مقرّر کردیا گیا کہ سننے اور پڑھنے والے حیران وششدر رہ گئے۔ کئی فراخدل عیسائی پادریوں نے یہ کہہ کر نظریۂ حق تسلیم کیا کہ وراثت کی آیات ہی قرآن کو کلامِ الٰہی ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔
وراثت کی تقسیم، یتیموں کے حقوق اور نکاح کے معاملے میں محرّمات کا ذکر قرآن کی سورۃ النساء آیات میں ہے، جو حکمت اور دانائی کی تابدار کرنیں ہیں۔
مولانا مودودیؒ اور ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے اپنی تفاسیر میں سورۃ النساء کا تعارف کرایا ہے۔
دونوں کا کہنا ہے کہ سورۂ النساء کے ان خطبوں میں بتایا گیا ہے کہ مسلمان اپنی اجتماعی زندگی کو اسلام کے طریق پر کس طرح درست کریں، یہاں خاندان کی تنظیم کے اصول بتائے گئے، نکاح پر پابندیاں عائد کی گئیں، معاشرت میں عورت اور مرد کے تعلقات کی حد بندی کی گئی، یتیموں کے حقوق متعین کیے گئے، وراثت کی تقسیم کا ضابطہ مقرر کیا گیا اور معاشی معاملات کی درستی کے متعلق ہدایات دی گئی ہیں۔
سورۃ النساء کا آغاز ہی اس طرح کیا گیا ہے "لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا۔ اس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو اور رشتہ وقرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے........
