Balochistan, Halaat Ab Bhi Sudhar Sakte Hain
بلوچستان، حالات اب بھی سدھر سکتے ہیں
وطنِ عزیز کے مختلف حصوں میں کہیں بدامنی اور بے چینی ہے اور کہیں دہشت گردی پھن پھیلائے کھڑی ہے، مگر اصلاحِ احوال کے لیے وزیرِاعظم اور سیاسی قیادت کا کوئی رول نظر نہیں آرہا، جو افسوسناک بھی ہے اور تشویشناک بھی۔ تکبّر اور رعونت سے کیے گئے فیصلوں سے حالات درست نہیں ہوسکتے۔ طاقت اور جبر سے نہیں پیار، احترام، فراخدلی، رواداری اور انصاف سے ہی امن اور استحکام آسکتا ہے۔
صرف بھارت نہیں اسرائیل اور افغانستان سمیت کچھ مسلمان ملک بھی بلوچستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے اور دہشت گردوں کو پیسہ، ٹریننگ اور اسلحہ دینے میں پوری طرح ملوث ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سب شیطانی قوتیں مل کر بھی بلوچستان کی ایک انچ زمین پاکستان سے علیحدہ نہیں کرسکتیں۔
انشااللہ۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا ہم اپنی ذمے داریاں پوری کررہے ہیں۔ کیا ہم نے ڈوزئیر تیار کرکے عالمی اداروں اور دنیا کی اہم حکومتوں اور وہاں کے میڈیا اور تھنک ٹینکس کے سامنے کیس پیش کیا ہے اور دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے ان ملکوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے؟ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا، اس سلسلے میں فوری طور پر انگریزی میں مدلّل اور موثر گفتگو کرنے والے افراد کو اہم ملکوں اور عالمی اداروں میں بھیجنا چاہیے۔
یہ بھی ماننا پڑے گا کہ دشمن تب اسٹرائیک کرسکتا ہے جب لوہا گرم ہو۔ جب زمین تیار نہ ہو تو اس میں انتشار کے بیج کوئی نہیں پھینکتا۔ انتشار، بد امنی اور دہشت گردی کے بیج تیار زمین میں ہی ڈالے جاتے ہیں۔ تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم لوہا گرم کیوں ہونے دیتے ہیں۔
ہم دشمنوں کو اسٹرائیک کرنے کا موقع کیوں فراہم کرتے ہیں؟ ہم خود انتشار اور دہشت گردی کی فصل کے لیے زمین تیار کرکے کیوں دیتے ہیں؟ ہم وطنِ عزیز میں ایسے حالات کیوں پیدا ہونے دیتے ہیں کہ جن سے دشمن فائدہ اٹھائیں؟ اگر سرکاری اہل کار بددیانت اور بدنیت ہوں، حرام کھانا اور مال بنانا ہی ان کی ترجیحِ اوّل ہو، سرکاری دفتروں اور عدالتوں میں عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہوں، ترقی اور روزگار کے مواقع ناپید ہوں تو اس ماحول میں بدامنی جنم لے گی اور دہشت گردی پھلے پھولے گی۔ جن........
