menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aik Naamwar Sahafi Ki Sarguzasht

7 0
latest

ایک نامور صحافی کی سرگزشت

جناب عبدالمجید سالک اپنے وقت کے وہ نامور صحافی تھے جن کے علامہ اقبالؒ اور ابوالکلام آزاد کے ساتھ بیک وقت بہت اچھے مراسم تھے، وہ لاہور سے نکلنے والے اخبار انقلاب کے بڑے دبنگ ایڈیٹر تھے۔ انھوں نے ہی شیخ عبداللہ کو اس وقت شیرِ کشمیر کا خطاب دیا تھا، جب وہ ابھی کانگریس کی گود میں نہیں بیٹھے تھے۔ عملی زندگی کے آغاز میں انھیں ٹانک جو ڈیرہ اسمعیل خان ڈویژن کا ایک ضلع ہے اور جنوبی وزیرستان کے ہیڈکوارٹر وانا جیسی دور دراز جگہوں پر بھی رہنا پڑا۔ سو سال پہلے کے ٹانک کے حالات نوجوان سالک کی زبانی سن لیجیے۔

"میرے چچا نے والد سے کہا کہ سالکؔ کو چند ماہ کے لیے میرے پاس وزیرستان بھیج دیجیے۔ وہاں اس کی عارضی ملازمت کا بندوبست بھی ہوجائے گا۔ چنانچہ میں دسمبر میں پٹھان کوٹ سے چل کر دریا خاں، وہاں سے کشتیوں کے پُل پر سے ڈیرہ اسمٰعیل خان اور ڈیرہ اسمٰعیل خان سے ٹانگہ پر سفر کرکے ٹانک پہنچا۔ جہاں "پولیٹکل سرائے" میں چچا اور ان کے دفتر کا عملہ مقیم تھا۔ چوں کہ میں پہلی دفعہ اپنے گھریلو ماحول اور اپنے دوستوں سے جدا ہوکر کالے کوسوں ایک بالکل اجنبی مقام پر پہنچ گیا تھا، جہاں کوئی ہم مذاق نہ تھا، اس لیے طبیعت بہت افسردہ رہتی تھی۔

ٹانک میں چچا کا ایک نوکر یا خانساماں تھا، ملا حیات اللہ۔ یہ بنوں کے علاقے کا رہنے والا تھا، کوئی ستائیس اٹھائیس سال کی عمر ہوگی، بڑا خوش مزاج اور خدمت گزار، ایک دن چچا نے مجھے بتایا کہ یہ ملّا بہت ذی علم آدمی ہے، محض کسی جرگے کے حکم سے اپنی جلا وطنی کا زمانہ کاٹنے کے لیے یہاں نوکری کررہا ہے، اس کے بعد میں نے ٹٹولا تو معلوم ہوا لہ مُلّا صاحب علومِ دینی کے ماہر ہیں لیکن ان کا تمام تر علم ملفوظی ہے، لکھنے میں ان کی یہ حالت ہے کہ اپنا نام "حیات اللہ" نہیں لکھ سکتے، میں نے چچا سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ وہ کہنے لگے کہ یہاں ایسے علماء اکثر ملیں گے، کیونکہ کتابیں اور لکھنے کا سامان کمیاب ہے، یہ لوگ بڑے بڑے علماء سے بڑی بڑی کتابیں پڑھ لیتے ہیں اور لکھنا ضروری نہیں سمجھتے۔ بعد میں میں نے دیکھا کہ........

© Daily Urdu