Bidat
بدعت کا مذہب پر یہ احسان رہا ہے کہ اس کے بغیر مذہب تہذیبی طور پر کبھی سروائیو ہی نہیں کر سکتا تھا۔۔ جہاں پر مذہب نے خود کو تہذیبی طور پر تنہا پایا وہاں بدعت نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے عوام میں مقبول کیا۔۔ بدعت نے بنیادی طور پر اس پل کا کردار ادا کیا جس نے عجم کی اجنبی زمین اور ثقافت کو بیرونی مذہب کے ساتھ ملا دیا بلکہ عوام کے دلوں میں پیوست کردیا۔۔
تصور بدعت ہماری تاریخ میں سب سے زیادہ انڈر ریٹ کیا جانے والا تصور ہے اور اس کی اس طرح تفہیم کی ہی نہیں گئی جس طرح اس کا حق تھا۔۔ مگر بدعات میں ہر دور میں اتنا دم خم رہا کہ وہ ایک ڈی فیکٹو سچائی کی طرح مذہبی معاشرے پر چھائی رہیں۔۔
بے شک تمام بڑے ائمہ، فقہا، محدثین، متکلمین نے بدعات کے خلاف لکھ لکھ کر ورق سیاہ کر دیئے اپنے قلم لولے لنگڑے کردیے، واعظوں کو بے سرا کر دیا، خطیبوں کو گونگا بنا دیا، کتابوں کو بے اثر کر دیس اور بدعاتِ کا سیلاب ہر دور میں غیر بدعتی "اانٹیلکچوئل ایلیٹ" کو اپنے ساتھ بہا کر لے گیا۔۔ ایک طرف علما و فضلا کا علم تھا اور دلائل تھے وہ ہر رسم کو کل بدعتہ ضلالہ کے خانے میں فٹ کرنے پر مصر تھے اور ایک طرف تنہا وہ رسم تھی۔۔ عوام معقولیت سے زیادہ مقبولیت کو ترجیح دیتی ہے۔۔ بدعات ہر دور میں معقول نہیں بلکہ مقبول رہیں۔۔
علما کہتے رہے کہ ہر وہ چیز بدعت ہے جو حضور اکرم کے دور میں نہ ہوئی ہو اور ہم اسے ثواب کی نیت سے کریں یہ بدعت ہے۔۔ اگر علماء کی خود ساختہ بدعت کی اس تعریف کا ایک جائزہ لیا جائے تو بہت سے سوال کھڑے ہو جاتے ہیں۔
سب سے پہلے تو مولویت کا پیشہ ہی سب سے بڑی بدعت ہے۔۔ حضور اکرم کے دور میں کونسے مولوی ہوا کرتے تھے۔۔ کیا دور نبوی میں آٹھ سالہ درس نظامی ہوا کرتا تھا، جہاں ہدایہ، تفسیر جلالین، صحیح بخآری، تفسیر ابن کثیر کے رٹے طالبعلموں کو لگوائے جاتے تھے۔۔ پھر انھیں وفاق المدارس کی سند دے کر معاشرے کا جنازہ اور نکاح خواں بنایا جاتا ہر........
