Tasang Nama Aur Mamlat e Ishq: Mir Ki Zameen, Mir Ka Asman (1)
تسنگ نامہ اور معاملات عشق: میر کی زمیں، میر کا آسماں (1)
اردو تنقید نے میر تقی میر کی جو مورت ہمارے حافظے کے طاق میں تراش کر چن دی ہے وہ ایک ایسے شاعر کی ہے جو درد کا امام ہے، خارج سے زیادہ داخل پر توجہ مرکوز کرنے والا ہے، اپنے آپ میں مگن، گوشہ نشین، مردم بیزار جو لوگوں سے بات کرنے سے گریز کرتا ہے کہ کہیں اس کی زبان خراب نہ ہو جائے۔ میر کی غزل سے سینکڑوں دلیلیں اس مورت کو جلا دینے والی مل جاتی ہے، جس سے وہ چمک کر آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے۔
لیکن بہت سے لوگ بھول جاتے ہیں کہ میر نے صرف غزل نہیں لکھی، وہ مثنوی کے بھی بڑے شاعر ہیں۔ ان کی انتالیس مثنویاں تو ریختہ پر یونی کوڈ میں موجود ہیں۔ لیکن ان مثنویوں میں بھی نقادوں کی زیادہ تر توجہ عاشقانہ اور داستانوی مثنویوں پر رہی ہے، جن میں دریائے عشق، شعلۂ عشق، مور نامہ اور خواب و خیال، وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن میر کی ایک اور قسم کی مثنوی بھی ہے جو بالکل دب کر رہ گئی ہے اور وہ ہے سفرنامہ مثنوی۔
ایسی ہی مثنوی تسنگ نامہ، ہے جو میر کے ہاں ہی نہیں، اردو ادب میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔ اس مثنوی میں میر نے ایک عجیب شرارت کی ہے اور اپنی ایک اور مثنوی میں اسی کا حوالہ دے کر اسے اپنی ایک عشقیہ واردات سے اس عجیب طریقے سے جوڑ دیا ہے جس سے میر کی ایک نئی شخصیت سامنے آتی ہے۔ اس کی تفصیل تو بعد میں آئے گی، پہلے ہم تسنگ نامہ پر ایک نظر دوڑا لیں۔
اس مثنوی میں بنیادی موضوع سراسر خارج کی دنیا ہے، داخل کی روایتی دنیا کو اس میں داخلے کی اجازت نہیں ملی۔ یہاں دل کا دشت موضوعِ بحث نہیں، اصل ویرانوں کی منظر کشی ہے، آنکھیں دریا سی نہیں بہتیاں، بلکہ اصل ساون ٹوٹ کر برسا ہے اور اصل جمنا دریا نے بپھر کر بستی اور ویرانے کو دوآبہ بنا ڈالا ہے۔ اس مثنوی کے مرکزی مقامات عاشق کا ویران گھر، محبوب کا ظالم کوچہ، میکدہ وغیرہ نہیں، میرٹھ کے پار کی ایک اجاڑ گڑھی ہے۔ فراقِ یار کی شب نہیں، برسات کی وہ رات ہے جس میں کتے ہانڈیاں پھوڑتے پھرتے ہیں اور ظالم سماج کا کردار سرائے کی وہ بھٹیاری ادا کر رہی ہے جو دروازہ کھولنے سے پہلے مسافر کی جیب ٹٹولتی ہے۔
اس مثنوی کا نام تسنگ نامہ، ہے (بعض نسخوں اور ریختہ پر نسنگ نامہ درج ہے مگر اصل نام تسنگ ہے، تفصیل اس تحریر کے آخر میں)۔ یہ میرٹھ کے قریب ایک قصبہ ہے جہاں میر کو اپنے کسی مربی نواب اور ان کے ساتھیوں کے ہمراہ پہنچنا تھا۔ کیوں پہنچنا تھا، اس کا ذکر مثنوی میں نہیں اور میر کی آپ بیتی ذکر میر، بھی اس سفر کے بارے میں لب بند ہے، اس لیے ہم صرف اتنا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مربی صاحب کو کوئی ہنگامی نوعیت کا کام درپیش تھا، اس لیے وہ اپنے مصاحبوں (میر اور پیر صاحب و چاکر) کے ہمراہ تسنگ روانہ ہو گئے۔ معاملے کی ناگزیری اس سے ظاہر ہے کہ سخت ناسازگار موسم میں عازمِ سفر ہونا پڑا۔
مثنوی کے مطابق یہ ٹولا بھری برسات میں دلی سے نکلا، دریا پار کرکے شاہدرہ گیا، پھر غازی آباد، بیگم آباد اور میرٹھ سے ہوتے ہوئے لاوڑ اور وہاں سے تسنگ آن پہنچا اور یہ مثنوی اسی سفر کی روداد ہے۔ آغاز ہی سے لہجہ بتا دیتا ہے کہ ہم غزل کے میر کے ساتھ نہیں چل رہے:
ہم کو درپیش تب سفر آیا جب کہ برسات سر ہی پر آیا
راستے کیچڑ سے اٹے ہیں، بیل گاڑی کے بیل ایسے غبی کہ شاعر انہیں بھینس چہلے کے، (یعنی کیچڑ میں لتھڑی بھینسیں) کہتا ہے اور آسمان و زمین کا نقشہ ایک شعر میں یوں کھینچتا ہے:
آسماں آب سب، زمیں سب کیچ خاک ہے ایسی زندگی کے بیچ
پھر دریائے جمنا کا پاٹ جسے نے صرفہ ہے، نے محابا۔ بھنور، حباب، ڈوبنے کا ایسا قشعریرہ جس نے پانی سے متعلق دو پیغمبر میر کو یاد دلا دیے:
بہتا پھرتا تھا خضر کشتی پاس غوطے کھاتے تھے حضرت الیاس
لیکن جب دریا پار کر اترے تو راستے کیچڑ سے اٹے پڑے تھے۔ ایک کوس کا سفر ایک دن بھر وقت میں طے کرکے یہ رنگا رنگ قافلہ ایک گاؤں پہنچا، جس کا عجیب نقشہ میر صاحب نے صرف دو مصرعوں میں کھینچ کر رکھ دیا ہے:
سو نہ جاگہ تھی نہ مکانِ مبیت چار دوکانیں ایک پھوٹی مسیت
مُبیت: شب باشی کی جگہ
یہاں ایک سرائے تھی، جس کی........
