Manto Ko Ghalib Se Ishq Kyun Tha?
منٹو کو غالب سے عشق کیوں تھا؟
معروف براڈکاسٹر ابوالحسن نغمی منٹو پر اپنی کتاب سعادت حسن منٹو: ذاتی یادداشتوں پر مبنی اوراق، میں لکھتے ہیں کہ منٹو صاحب کو غالب سے شدید جذباتی وابستگی تھی۔ انہیں غالب پر کبھی کبھی اس قدر پیار آتا تھا کہ وہ فرط محبت سے انہیں گالیاں دیا کرتے تھے، وہ گالیاں فحش نہیں ہوتی تھیں وہ غالب کو فرط محبت سے کمینہ، کہا کرتے تھے۔۔
منٹو کو ہمیشہ ہی سے مرزا غالب سے عقیدت اور محبت رہی ہے۔ ان کے ایک افسانے آرٹسٹ لوگ، میں منٹو کا ایک کردار غالب کے بارے میں کہتا ہے: غالب کے سوا اور کون ہو سکتا ہے جو انسان کے جذبات کی ترجمانی کر سکے؟
منٹو کی غالب سے وابستگی کا پتہ ان کی کتابوں کے ناموں سے بھی چلتا ہے، جن میں لذتِ سنگ، زحمتِ مہرِ درخشاں اور نمرود کی خدائی، شامل ہیں۔ ان کے علاوہ منٹو نے کئی مضامین اور افسانوں کے نام بھی غالب کے مصرعوں سے اخذ کیے۔
یہی نہیں بلکہ منٹو نے غالب پر کم از کم چھ تحریریں چھوڑی ہیں۔ شمس الحق عثمانی نے اپنی کتاب غالب اور منٹو، میں ان میں سے پانچ کو شامل کیا ہے: غالب اور سرکاری ملازمت، آگرہ میں مرزا نوشہ کی زندگی، مرزا غالب کی حشمت خاں کے گھر دعوت، غالب، چودھویں اور حشمت خاں، مرزا نوشہ اور چودھویں۔۔
لیکن ان کے علاوہ بھی منٹو کی غالب پر ایک تحریر ہے، قرض کی پیتے تھے مے۔۔ ، اس افسانے میں منٹو نے غالب پر چلنے والے قرض نادہندگی کے مقدمے کا احوال بیان کیا ہے۔ مقدمے کے قاضی غالب کے دوست مفتی صدر الدین آزردہ ہیں۔
ان سب کے علاوہ ظاہر ہے کہ منٹو نے غالب، فلم کا سکرپٹ بھی لکھا تھا۔ یہ سکرپٹ، جسے شاید منٹو نے بمبئی سے پاکستان آتے وقت سہراب مودی کو فروخت کر دیا ہوگا، محفوظ نہیں رہ سکا، اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی کہانی کو فلم ساز اور اس فلم کے مکالمہ نویس اور اردو کے ایک اور چوٹی کے افسانہ نگار راجندر سنگھ بیدی نے بعد میں کتنا بدل........
