menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ambar Bail Ki Uljhi Bailen (3)

19 0
14.06.2026

"امبربیل" کی الجھی بیلیں (3)

بازی گر، بھی شکیل عادل زادہ لکھتے تھے اور اس کی تحریر کی داستان بھی امبربیل کی طرح ایک خاص انداز میں ارتقا پذیر ہوئی۔ ہم ذکر کر چکے کہ شروع میں اس میں بھی واقعات کی رفتار تیز، بہت تیز تھی، پھر رفتہ رفتہ سست ہوتی گئی، خود کلامیاں بڑھتی گئیں، مکالمے طول پکڑنے لگے، دو واقعات کا درمیانی فاصلہ اتنا ہی ہونے لگا جتنا اس زمانے میں سب رنگ کے دو شماروں کا درمیانی وقفہ ہوا کرتا تھا۔ آخری قسطوں تک آتے آتے پلاٹ کی گاڑی تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گئی اور پھر جب سب رنگ بند ہوا تو ساتھ ہی یہ پتنگ بھی کٹ گئی۔

اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ جب شکیل صاحب نے سب رنگ کسی اور کے حوالے کر دیا تو ساتھ ہی بازی گر، کے حقوق بھی بیچ دیے، جس کے بعد بازی گر، کی ایک دو قسطیں کسی اور صاحب نے لکھیں ضرور، مگر وہ بھی جلد ہانپ گئے۔ شکیل صاحب نے ایک انٹرویو میں واویلا کیا تھا کہ ہائے انہوں نے میرے کردار بٹھل کو بوری میں بند کرکے دکھا دیا۔

خیر اب سنا ہے، بلکہ پچھلے پچیس سال سے سن رہے ہیں کہ شکیل عادل زادہ صاحب بڑی تیزی، سے بازی گر، پر کام کر رہے ہیں اور آخری قسطیں نمٹا رہے ہیں۔ اللہ کرے کہ ہماری زندگی میں یہ کام ہو جائے۔

خیر، مماثلت کی بات ہو رہی تھی۔ پلاٹ کی رفتار کے علاوہ دونوں کہانیوں کا لوکیل بھی آزادی سے قبل کا ہندوستان ہے جہاں انگریزوں کی عمل داری ہے اور دونوں سلسلوں کے مرکزی کردار ان کے خلاف مزاحمت پر کمربستہ ہیں۔

بازی گر، کے بابر زماں خاں اور امبربیل، کے میر جمشید عالم کے کرداروں میں بھی کئی مماثلتیں ہیں۔ بلکہ بعض اوقات تو دونوں ایک ہی تھان سے کاٹے ہوئے کٹ پیس لگتے ہیں۔ دونوں بےحد سلجھے ہوئے، تہذیب یافتہ، باصلاحیت نوجوان ہیں۔ دونوں گفتگو کے میدان کے دھنی ہونے کے ساتھ ساتھ زبردست ایکشن ہیرو بھی ہیں اور ان کے لیے تنِ تنہا بارہ پندرہ غنڈوں کو سڑک کی دھول چٹانا کوئی مسئلہ نہیں۔ البتہ یہ فرق ضرور ہے کہ جمشید میاں کا پسندیدہ ہتھیار پستول ہے جب کہ بابر زماں چاقو سے کھیلتے ہیں۔

پھر ایک قابلِ ذکر بات دونوں کا زندگی کو دیکھنے کا انداز ہے۔ دونوں کا مصنف ایک ہی ہے، اس لیے لامحالہ دونوں کرداروں کا زندگی کو دیکھنے اور واقعات کی فلسفیانہ........

© Daily Urdu