Zalimo El Nino Araha Hai
ظالمو ایل نینو آ رہا ہے
دو ہزار چوبیس عالمی تاریخ کا گرم ترین سال قرار پایا۔ مگر اگلے برس (دو ہزار ستائیس) ہم دو ہزار چوبیس بھی بھول جائیں گے۔ گذشتہ برس کی نسبت برصغیر میں مون سون بارشیں اس بار کم ہو رہی ہیں۔ اس کمی کی شدت ہماری معیشت و خوراک پر چھ ماہ بعد ظاہر ہونا شروع ہوگی۔ اندازہ ہے کہ غذائی قلت و گرانی کے سبب مزید پانچ کروڑ انسان اگلے ایک برس میں بھوک کی کگار تک پہنچ سکتے ہیں۔ (بھارت نے تو ابھی سے غذائی پیداوار کی برآمد پر پابندیاں عائد کرنا شروع کر دی ہیں)۔
اس اتھل پتھل کا ایک بنیادی محرک موسمیاتی تبدیلیاں تو خیر ہیں ہی البتہ جب سب سے بڑا سمندر بحرالکاہل گرم ہوتا ہے تو دھرتی پر بہت کچھ الٹا سیدھا ہونے لگتا ہے۔ بحرالکاہل کی یہی گرمی ہر دو سے سات برس بعد ایل نینو لہر جنم دیتی ہے۔ مگر ایل نینو بذاتِ خود کیا بلا ہے؟
ایل نینو بحرالکاہل میں درجہِ حرارت اور ہواؤں کے اتار چڑھاؤ کا ایک قدرتی نظام ہے جس کے اثرات سے کرہِ ارض کا موسمیاتی تسلسل متاثر ہوتا ہے۔ اس دوران عموماً مشرق سے مغرب کی جانب چلنے والی تجارتی ہواؤں (وہ ہوائیں جو پرانے دور میں تجارتی کشتیوں کے بادبانوں کو رواں رکھتی تھیں) کا زور ایل نینو کی لہر کے سبب ایک جانب نہیں رہتا۔
گرم سمندر بہت زیادہ کاربن ڈائی اوکسائیڈ بھی جذب نہیں کر سکتا۔ چنانچہ نمی اور کاربن ڈائی اوکسائیڈ کی اضافی مقدار اوپر جا کر ماحولیاتی بچاؤ کی ڈھال کو اور کمزور کرتی ہے۔ سمندری درجہِ حرارت بڑھنے کے سبب گرم پانی مغرب سے مشرق کی جانب پھیلتا ہے۔ اس پانی کی گرمی بخارات کی صورت فضا میں بکھر کے عالمی درجہِ حرارت اور........
