menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Uncle Uncle Agli Lathi Kab Maro Ge?

21 0
previous day

انکل انکل اگلی لاٹھی کب مارو گے؟

جنتر منتر نے نئی نسل کے ماتھے سے یہ داغ شائد دھو ڈالا ہے کہ بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں، اپنے آپ میں مگن رہتے ہیں، نہ پڑھتے لکھتے ہیں، نہ دیکھتے سنتے ہیں، سوشل میڈیا کے ان اسیروں کو کیا معلوم سیاسی جدوجہد کیا بلا ہوتی ہے، نظریہ کس پرندے کا نام ہے اور اصولوں پر ڈٹے رہنے کی قیمت کیا ہے۔ ایسے تمام مفروضوں کا جیسا کرارا جواب ان بچوں نے اپنی پینتیس روزہ تحریک میں دیا اس کے بعد ہم جیسے افلاطونی بڈھوں کو گویا چپی سی لگ گئی، ساری دانش دھری کی دھری رہ گئی ہے۔

اس تحریک سے جو بنیادی سبق حاصل ہوا وہ شائد کسی بھی آمر کی سمجھ میں فوری طور پر نہ آئے اور سبق یہ ہے کہ جب تم کسی طبقے کی اجتماعی توہین کرتے ہو اور اس سے حقارت برتتے ہو تو ایک دن خود بھی ایسی ہی توہین اور حقارت برداشت کرنے کے لیے تیار رہو۔

ان بچوں کی کوئی مرکزی قیادت نہیں تھی بلکہ مستقبل کی بے یقینی ہی انھیں فیصلہ کن قدم اٹھانے پر مجبور کر رہی تھی۔ راتوں رات انٹرنیٹ پر تشکیل پانے والی کاکروچ جنتا پارٹی کی خودرو قیادت نے بس ایک علامتی پلیٹ فارم فراہم کر دیا۔ ان میں سے کسی کو نہیں معلوم تھا کہ وہ جس راہ پر چل نکلے ہیں وہ کہاں تلک لے جائے گی۔ جس کے ہاتھ گتا آیا اس نے اس گتے پر من کی بات لکھ دی، جس کے ذہن میں کوئی نیا نعرہ آیا اس نے کھڑے کھڑے وہیں لگا دیا۔ کسی نے گا کر تو کسی نے تھالی بجا کر دل کی بھڑاس نکالی۔

ان ہزاروں بچوں میں........

© Daily Urdu