Taleem Bhi Hindu Muslim Ho Sakti Hai
تعلیم بھی ہندو مسلم ہو سکتی ہے
بھارتی آئین کے آرٹیکل تیس کے مطابق اقلیتیں تعلیمی ادارے قائم کر سکتی ہیں اور ان اداروں میں پچاس فیصد کوٹہ اپنی کمیونٹی کے طلبا و طالبات کے لیے مختص کر سکتی ہیں۔ مگر اس برس جنوری میں ایسا واقعہ ہوا جس نے میرٹ کی دھجیاں اڑا دیں۔ مقبوضہ جموں کے شہر ریسی میں شری ماتا وشنو دیوی ٹرسٹ کے قائم کردہ میڈیکل کالج خود ہندو مظاہرین نے بند کروادیا۔
وجہ یہ تھی کہ پہلے بیج میں پچاس طلبا و طالبات نیشنل انٹرینس ایگزامینیشن ٹیسٹ میں میرٹ کی بنیاد پر کامیاب ہو کر اس میڈیکل کالج میں داخلے کے حقدار قرار پائے۔ ان پچاس طلبا میں ایک سکھ، سات ہندو اور بیالیس مسلمان تھے۔
مقامی ہندو انتہاپسند تنظیموں نے یہ اعتراض اٹھایا کہ ایک ہندو ٹرسٹ کے قائم کردہ ادارے میں اتنی بڑی تعداد میں غیر ہندو طلبا کیسے داخل ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ نیشنل میڈیکل کمیشن جس نے اس کالج کے قیام کی اجازت دی تھی اسی کمیشن نے یہ کہہ کر اجازت واپس لے لی کہ اس کالج کی فیکلٹی کے اکثر اساتذہ کمیشن کے قائم کردہ معیار پر پورا نہیں اترتے لہذا اجازت نامہ منسوخ کیا جاتا ہے۔
جن طلبا کو یہاں داخلہ ملا تھا انھیں دیگر میڈیکل کالجوں میں داخلہ دیا جائے گا۔ تنگ نظری اس حد تک بھی جا سکتی ہے؟ کم ازکم آج کے بھارت میں یہ کوئی حیرت ناک واقعہ نہیں۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہلا اعلی اقلیتی تعلیمی ادارہ تھا جو لگ بھگ ایک صدی سے بطور جامعہ متحرک ہے۔ اب یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ علی گڑھ کا اقلیتی سٹیٹس ختم کرکے دیگر یونیورسٹیوں کی طرح ایک عام پبلک........
