Social Media Aur Ai Bachon Ke Liye Zehmat Ya Rehmat?
سوشل میڈیا اور اے آئی بچوں کے لیے زحمت یا رحمت؟
بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کی تازہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ پانچ برس میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بارہ سے سترہ برس کی عمر کے لگ بھگ دو کروڑ بچوں کو جنسی مواد کے ذریعے ور غلانے کی کوشش ہوئی۔
ڈیڑھ کروڑ بچوں کو جان بوجھ کر جنسی مواد بھیجا گیا اور نوے لاکھ بچوں پر جنسی موضوعات پر گفتگو کے لیے دباؤ ڈالا گیایا انھیں معنی خیز تصاویر دکھائی گئیں، تحائف کا لالچ دیا گیا اور ملنے پر اصرار کیا گیا۔ جن اکیس ممالک کے بیس ہزار سے زائد بچوں کی اس سروے میں سیمپلنگ کی گئی ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق لگ بھگ پندرہ لاکھ پاکستانی بچے کسی نہ کسی شکل میں آن لائن ہراسانی کا شکار ہوتے ہیں۔
سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً ساٹھ فیصد ورغلاہٹ فیس بک، وٹس ایپ، انسٹا گرام، سنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ہوتی ہے۔ چودہ فیصد واقعات میں ہراسانی اور ایکسپلائٹیشن آن لائن گیمنگ کے ذریعے ہوئی۔ پچاس فیصد سے زائد ورغلانے والے رشتے دار اور دوست تھے جبکہ اڑتیس فیصد اجنبی لوگ تھے۔ انٹرنیٹ پلیٹ فارمز کے ذریعے ایکسپلائٹ ہونے والوں میں سے ایک فیصد سے بھی کم بچے یا ان کے والدین رہنمائی و مدد کے لیے پولیس، کسی ہیلپ لائن یا سوشل ورکر سے رابطہ کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی بھی اب بڑے خطرے کے طور پر ابھر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق لگ بھگ گیارہ لاکھ بچوں کی تصویری شباہت اے آئی جنریٹڈ جنسی مواد پر مشتمل تصاویر یا وڈیوز میں استعمال ہوئی۔ انھیں ایسی دھمکیاں بھی دی گئیں کہ اگر ہم سے رابطہ توڑا تو گھر والوں کو مختلف ذرائع........
