Neelay Samundar Ke Qaidi
خدا خدا کرکے خلیجِ اومان کے در پر ڈولتا امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن عسکری گلو خلاصی کے بعد پانچ ہزار چھ سو اسی ملاحوں اور نوے طیاروں کو لے کر گھر کی شکل نو ماہ بعد دیکھنے کے قریب ہے۔ اس کی جگہ مغربی بحرالکاہل میں تعینات ایک اور جہاز جارج واشنگٹن نے سنبھالی ہے۔
ابراہام لنکن گذشتہ برس پچیس نومبر سے کھلے سمندر میں ڈیوٹی دے رہا تھا۔ اس کے عملے نے اس عرصے میں صرف ایک دن بحرالکاہل کے جزیرہ گوام کے نیول بیس پر قیام کیا اور پھر اس کا عملہ خشکی کی شکل دیکھنے کو ترس گیا۔ بیچ سمندر فنی خرابیاں بڑھتی چلی گئیں۔ کھانا باسی اور غیر معیاری ہوگیا۔ ٹوائلٹس میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہوگئی۔ گندگی ناقابلِ برداشت ہونے لگی۔ زمین کو ترسے نیلے سمندر کے قیدی جہازیوں پر ذہنی دباؤ بڑھنے لگا۔ تین چار نے تو سمندر میں کود کر اس عذاب سے نجات پانے کی بھی ناکام کوشش کی۔
واضح رہے کہ قواعد و ضوابط کے مطابق عموماً بحری عملہ زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کھلے سمندر میں رہ سکتا ہے۔ اس اعتبار سے ابراہام لنکن کے عملے کی گزرے مئی میں گلو خلاصی ہو جانا چاہیے تھی۔ جہازیوں کے اہلِ خانہ نے بھی شور مچایا۔ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور کی بحریہ کے دگرگوں حالات کی شکل میں میڈیا کو ایک اور چٹپٹی اسٹوری مل گئی۔
امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں حزبِ اختلاف نے صدر ٹرمپ اور وزیرِ دفاع پیٹ ہیسگیتھ کے اس دعوے کے لتے لینے شروع کیے کہ امریکا ایران کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کی اہلیت و صلاحیت رکھتا ہے۔ اتنے غوغے کے بعد ہی سینٹرل کمانڈ کے سالار ایڈمرل بریڈ کوپر نے بنفسِ نفیس ابراہام لنکن کا دورہ کرکے حالتِ زار ملاحظہ کی۔ ویسے بھی دو اعشاریہ دو ارب ڈالر کے صرفے سے تیار ہونے والا یہ جہاز سینتیس برس سے خدمات بجا لا رہا ہے۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ نے بحری تعیناتی........
