menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kitabon Ki Akhri Hichki

23 0
11.08.2026

اگر میں کہوں کہ جس کے پاس کتابوں کا جتنا بھی ذخیرہ ہے سنبھال کر رکھ لے۔ چند برس میں ہی وہ وقت آنے والا ہے جب بیشتر لوگ کتابیں ڈھونڈتے پھریں گے اور انھیں اکثر کتابوں کی ایک جلد بھی نہ ملے گی۔ جنھوں نے اپنا ذخیرہ محفوظ کر لیا ہوگا وہ فخریہ انداز میں باقی لوگوں کو للچائیں گے کہ دیکھو ہمارے پاس فلاں فلاں موضوع پر کتاب ہے۔

اگر آپ نے اس انتباہ کو سنجیدگی سے نہ لیا تو زیادہ امکان ہے کہ اپنے اے آئی جنریشن کے پوتے، نواسے یا بیٹی کو آپ انٹرنیٹ پر کتاب کی تصویر دکھا کر سمجھائیں گے کہ دیکھو بیٹا اسے کتاب کہتے ہیں۔ یہ ہمارے زمانے میں کاغذ پر چھپتی تھی۔

اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں بڑی بڑی اے آئی کمپنیاں خرید رہی ہیں۔ انھیں ہائی اسپیڈ سکینرز سے کاپی کر رہی ہے اور پھر ہائیڈرولک کٹرز سے کاٹ کے گودا بنا رہی ہیں۔

آخر ایسا کیوں ہے کہ یہ کمپنیاں کتابوں کو کاپی کرنے کے بعد ہارڈ کاپی محفوظ کرنے کے بجائے ضایع کر رہی ہیں۔ حکمتِ عملی یہ ہے کہ جب آپ کو تاریخ، فلسفے، سماجیات، میٹریل سائنسز سمیت کسی بھی موضوع پر بنیادی یا اعلی معلومات کی طلب ہوگی اور جب دنیا سے کتابیں غائب ہو جائیں گی تو پھر یہی اے آئی کمپنیاں ہم انسانوں کو وہی تاریخی، فلسفیانہ، سماجی و سائنسی معلومات فراہم کریں گی جو وہ اپنے ماڈیول کو فیڈ کریں گی۔

یعنی یہ کمپنیاں علمی حقائق میں من پسند تبدیلیوں پر قادر ہوں گی، انھیں مسخ کر سکیں گی، توڑ مروڑ کر پیش کر سکیں گی یا کسی بھی حقیقت کو بلیک آؤٹ کر........

© Daily Urdu