menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Global Village Aalmi Jungle Mein Badal Raha Hai

12 8
03.02.2026

ہم جیسے اکثر تیسری دنیا والے اقوامِ متحدہ کو پانچ ویٹو طاقتوں کی لونڈی سمجھتے آئے ہیں۔ پھر بھی کم از کم انیس سو نواسی تک سفید پوش عالمی روایات میں کسی حد تک جان باقی تھی۔ اسی سال جب امریکا نے پانامہ کے ڈکٹیٹر جنرل مینول نوریگا کو اغوا کرنے کے لیے فوجی بھیجے تو اس سے پہلے کم ازکم چند ممالک نے بھلے جھوٹے منہ ہی سہی امریکا اور پانامہ میں ثالثی کی کوشش کی۔ علامتی ہی سہی مگر صدر جارج بش سینئر نے حملے سے پہلے کانگریس کو اعتماد میں لینا مناسب سمجھا۔

رسمِ دنیا ہی سہی مگر پانامہ کے خلاف فوجی کارروائی کی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے منڈب سے اور امریکی ریاستوں کی تنظیم (او اے ایس) نے کڑی مذمت کی حالانکہ امریکا بھی اس تنظیم کا رکن تھا۔

یورپی پارلیمنٹ نے بھی پانامہ پر "ننگی جارحیت " کے کھل کے لتے لیے۔ اگرچہ اس مذمتی سیاست سے امریکا کا تو کوئی بال بانکا نہیں ہوا مگر اتنی تسلی ضرور ہوئی کہ باقی دنیا اب بھی زبانی کلامی سہی مگر بین الریاستی تعلقات کے ضمن میں بین الاقوامی نظام کے بھرم کا حوالہ ضرور دیتی ہے۔

مگر دو ہزار چھبیس شروع ہونے کے تیسرے ہی دن جب اقوامِ متحدہ یا امریکی کانگریس کو بیچ میں ڈالے بغیر وینزویلا کا صدر اٹھا کے نیویارک پہنچا دیا جاتا ہے تو یہاں سے وہاں تک چوں بھی نہیں ہوتی۔

نائن الیون کے بعد اگرچہ امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عراق کے وسیع تر تباہی کے افسانوی ہتھیاروں کی تباہی کے نام پر دنیا بھر میں آتنک مچایا مگر اس دوران بھی امریکا اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے پلیٹ فارم کو........

© Daily Urdu