China America Ai Dangal
چین امریکا اے آئی دنگل
انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں غلط الارم کے سبب دو سے تین بار سوویت یونین اور امریکا کے مابین حادثاتی جنگ چھڑتے چھڑتے رہ گئی۔ حال ہی میں امریکی فوج کے ایک اینالسٹ نے ایک اے آئی چیٹ بوٹ سے ایران کے لیے روانہ ایک چینی بحری جہاز کی نقل و حرکت کے بارے میں پوچھا۔ چیٹ بوٹ نے دعوی کیا کہ جہاز پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے آلات لدے ہوئے ہیں۔ اس اے آئی اطلاع پر آمنا و صدقنا کہتے ہوئے امریکی فضائیہ اور بحریہ حرکت میں آ گئی تاکہ جہاز کو روک کر تلاشی لی جا سکے۔
اگر ایسا ہو جاتا تو شائد چین امریکا تعلقات میں کشیدگی کا گراف اچانک اس قدر بڑھ جاتا کہ صدر شی جن پنگ کا واشنگٹن کا دورہ بھی منسوخ ہو سکتا تھا۔ خوش قسمتی سے اسی اینالسٹ نے کچھ ہی دیر میں پتہ لگا لیا کہ اے آئی چیٹ بوٹ سے اندازے کی غلطی ہوئی ہے۔ یوں اس معاملے پر ممکنہ خطرناک کشیدگی بال بال ٹل گئی۔
شائد اسی لیے چینی صدر شی جن پنگ کے حالیہ دورہِ واشنگٹن کے دوران یہ تجویز بھی زیرِ بحث آئی کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو ترقی دینے کی دوڑ میں اگر دونوں اے آئی سپرپاورز کو اپنی قومی سلامتی کے لیے اچانک کوئی حادثاتی خطرہ محسوس ہو تو بروقت تصدیق کے لیے ہاٹ لائن قائم کی جائے جیسے سرد جنگ کے دور میں کسی ایٹمی غلط فہمی کے سبب تصادم کے امکانات کم کرنے کے لیے کریملن اور وائٹ ہاؤس کے درمیان ہاٹ لائن موجود تھی۔
ہاٹ لائن کی ضرورت اس لیے بھی اہم ہے کہ حال ہی میں نہ صرف اے آئی ایجنٹوں نے اپنے تئیں فیصلے کرنے کی کوشش کی........
