menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Balak Hutt Aur Green Land Ka Khilona

19 1
27.01.2026

جب دو ہزار انیس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈنمارک سے پوچھا کہ گرین لینڈ کتنے میں بیچو گے تو دنیا ہنسنے لگی۔ اب کوئی نہیں ہنس رہا۔ کیا یہ وہی ڈنمارک نہیں جس نے مارچ انیس سو سترہ میں بحیرہ کیربین میں اپنے تین مقبوضہ جزائر (سینٹ کروئکس، سینٹ جان اور سینٹ تھامس) ڈھائی کروڑ ڈالر میں امریکا کو فروخت کیے تھے۔ ان تینوں جزائر کو دنیا آج ورجن آئی لینڈز کے نام سے جانتی ہے جہاں سیکڑوں آف شور کمپنیاں اور بینک قائم ہیں۔ امریکا نے یہ جزائر پانامہ کنال کو اس وقت کے ممکنہ جرمن خطرے سے بچانے کے لیے خریدے تھے۔

امریکا کے لیے کسی بھی علاقے کو خریدنا کبھی بھی انہونی بات نہیں تھی۔ آج کا نصف سے زائد ریاستہائے متحدہ امریکا (یو ایس اے) خریدے ہوئے علاقوں پر ہی مشتمل ہے۔ وہ الگ بات کہ یہ خرید و فروخت نوآبادیاتی و سامراجی قوتوں نے کی اور مقبوضہ خطے ایک دوسرے کو غلاموں سمیت بیچ ڈالے۔

ریاستہائے متحدہ امریکا کی باضابطہ تشکیل سے لگ بھگ ڈھائی سو برس پہلے مئی سولہ سو چھبیس میں ڈچ ویسٹ انڈیز کمپنی نے موجودہ نیویارک کے علاقے مین ہیٹن اور بروکلین کی زمین پر آباد لیناپے قبیلے کو ساٹھ گلڈر (چوبیس ڈالر) کے مساوی مالیت کے زرعی آلات، دھاتی برتن اور کپڑا دے کر اپنے تئیں یہ رقبہ خرید لیا اور نیو ایمسٹرڈیم نامی پہلی کالونی آباد کی۔ مگر مقامی امریکی قبائل چونکہ زمین کی مستقل خرید و فروخت کے تصور سے ہی ناآشنا تھے لہذا وہ سمجھے کہ ولندیزی آبادکاروں نے یہ رقبہ ایک سیزن تک استعمال کے لیے مستعار لیا ہے۔ جب کہ گورے آبادکاروں کا خیال تھا کہ انھوں نے ساٹھ گلڈر ادا کرکے یہ زمین دائمی خرید........

© Daily Urdu