menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Tabdeeli Ke Daway Aur Governor Raj

28 0
17.10.2026

تبدیلی کے جھوٹے دعوے اور گورنر راج

گورنرراج پربھنگڑے ڈال کرلڈوکھانے والوں کی زبان سے باربارگزرے تیرہ سالہ راج کاذکرسناتواپنے شمشیریوسفزئی یادآگئے۔ شمشیریوسفزئی کاشمارہمارے ان دوستوں میں ہوتاہے جوکپتان کے کھلاڑیوں کی طرح ہروقت انقلاب پرسوارہوکرتبدیلی کا مکا لہرارہے ہوتے ہیں۔ یہ ہزارہ کے ایک بڑے ہسپتال میں سب انجینئرہیں۔ انہیں بھی پی ٹی آئی کی طرح نقشے بناتے تیرہ سال گزرچکے ہیں لیکن ان تیرہ سالوں میں یہ بھی اپنے روشن مستقبل کیلئے نقشے بنانے سے آگے نہیں بڑھے۔

کپتان کے کھلاڑیوں اوراپنے اس پڑھے لکھے اناڑی کودیکھ کریوں محسوس ہوتاہے کہ جیسے یہ تیرہ سال والوں نے آگے نہ بڑھنے اورکچھ نہ کرنے کی کوئی قسم کھائی ہو۔ ویسے ایسوں کی قسمیں توڑنے کے لئے پھرگورنرراج والے نہ چھوڑے جائیں توکیاان کے سرتوڑے جائیں؟ جمہوریت کے ہاتھوں جمہوریت کاجنازہ اٹھنے کادکھ کس کونہیں؟ جمہوری عمل اورسفرمیں گورنرراج کے طریقہ علاج کوواللہ ہم بھی اچھی نظرسے نہیں دیکھتے لیکن خیبرپختونخواکے بادشاہ گرجس ڈگرپرچل نکلے تھے ان کوجگانے کے لئے گورنرراج کانفاذقرض سے فرض کے درجے پرپہنچ چکاتھاکیونکہ جولوگ حدکراس کرنے لگیں انہیں دائرے میں واپس لانے کیلئے پھرایساایک جھٹکادیناضروری ہوتاہے۔

آج نہیں توکل۔ پی ٹی آئی کوایک جھٹکالگنالازم تھاسووہ لگ گیا۔ اب اس پرمگرمچھ کے آنسوبہانے کاکوئی فائدہ نہیں۔ پشتو میں ایک کہاوت ہے۔ وی چاچا، پخپلہ، گلہ مہ کوہ د بلہ، یعنی جب مصیبت اپنے ہی ہاتھوں مول لی ہے تو پھر دوسروں سے گلہ کیا؟ ہمارے بڑے بچپن میں ہمیں بندرکی ایک کہانی سنایاکرتے تھے کہ ایک بندرکہیں ماچس سے کھیلتے ہوئے پی ٹی آئی والوں کی طرح خود کو آگ لگا بیٹھا۔ جونہی اس کے جسم سے شعلے بلند ہونے لگے تو وہ چیخنے چلانے لگا۔........

© Daily Urdu