menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sarkari Hospitals, Akhri Sahara

42 0
19.09.2026

سرکاری ہسپتال، آخری سہارا

نجی ہاسپیٹل کی چمک اپنی جگہ مگر سچ یہ ہے کہ مشکل کی ہرگھڑی میں عوام کی اصل امید انہی سرکاری ہسپتالوں سے وابستہ ہوتی ہے جنہیں برابھلاکہتے ہوئے ہم نہیں تھکتے۔ چار سال پہلے کی بات ہے ہماراایک شیرخوار بھتیجا پیدائش کے ساتھ ہی آکسیجن کی کمی اور سانس کے مسئلے کا شکارہواجس کی وجہ سے اس کی حالت تسلی بخش نہیں تھی۔ اس لئے بہتر علاج کی امیدپرہم اسے ایبٹ آباد کے ایک بڑے نامی گرامی چلڈرن ہسپتال میں داخل کرگئے۔

ہسپتال کے اخراجات بھاری تھے لیکن ہمیں امید تھی کہ جدید سہولیات، ماہر ڈاکٹرزاور اچھے انتظامات بچے کو زندگی کی طرف واپس لے آئیں گے۔ جب تک بچے کی سانس چلتی رہی وہاں اخراجات بھی نوٹ ہوتے رہے مگرپھر جب ڈاکٹروں کو محسوس ہوا کہ بچے کوجوسہولیات درکار ہیں وہ یہاں نہیں۔ ہمیں کہا گیا کہ بچے کو فوراً ایوب میڈیکل کمپلیکس منتقل کریں کیونکہ وہاں وہ سہولیات دستیاب ہیں جوہمارے پاس یہاں نہیں۔ وہ لمحہ ہمارے لئے محض ایک طبی فیصلہ نہیں بلکہ ایک ایساسبق تھاجس نے ہماری بہت سی خوش فہمیاں اورغلط گمانیاں ایک لمحے میں دورکردیں۔

جس نجی ہسپتال کو ہم بہتر، جدید اور محفوظ سمجھ کر گئے تھے آخرکاراسی نے ہمیں ایک سرکاری ہسپتال کا راستہ دکھادیا۔ تب اندازہ ہوا کہ سرکاری ہسپتال صرف غریب شخص کی مجبوری نہیں بلکہ مشکل وقت میں یہ ہر طبقے کے انسان کا سہارابھی ہیں۔ ہم عام حالات میں سرکاری ہسپتالوں کو برا بھلا کہتے ہیں۔ رش، لمبی قطاریں، انتظامی کمزوریاں، صفائی، ادویات اور سہولیات کی کمی جیسے مسائل میں ہمارے گلے اورشکوے بجابھی ہیں لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب گھر کا کوئی فرد شدید بیمار پڑ جائے، جب ایمرجنسی دروازے پر کھڑی ہو اور جب علاج کے اخراجات انسان کی استطاعت سے باہر ہونے لگیں تو پھر ہماری نظریں انہی سرکاری ہسپتالوں کی طرف اٹھتی ہیں۔........

© Daily Urdu