Governor Raj Par Awam Khamosh Kyun?
گورنر راج پر عوام خاموش کیوں؟
اسرارجہانگیری ہمارے بزرگ ہیں، ان کے ساتھ ہمارامحبت اورعقیدت کاتعلق ہے، یہ ایوب میڈیکل کمپلیکس ایبٹ آبادمیں اسسٹنٹ انجینئررہے، زندگی کابڑاحصہ انہوں نے کمپلیکس ہسپتال کودیا۔ چنددن پہلے یہ مدت ملازمت مکمل کرکے جب اپنے عہدے سے ریٹائرہوئے تو ہمارے دوست قاصرخان نے دیگرساتھیوں کے ساتھ ملکران کے اعزازمیں ایک الوداعی تقریب کاانعقادکیاجس میں ہمیں بھی خصوصی دعوت دی گئی، اس تقریب میں کمپلیکس کے درجنوں ملازمین شریک ہوئے۔ تقریب کے اختتام پرایک عجیب نظارہ دیکھنے کوملا۔
اسرارجہانگیری کی ریٹائرمنٹ پرقاری نواز، ندیم خان، عارف سلطان اورسجادسمیت اس کے ڈیپارٹمنٹ کے بڑے بڑے بابے بچوں کی طرح دھاڑیں مارکرروتے رہے۔ یہ ایک شخص کی ملازمت سے جانے پرپیچھے رونے اورتڑپنے والوں کامنظرہے، اب ذرہ ایک پوری حکومت کے جانے کانظارہ کرلیں۔ وفاق نے قیام امن میں ناکامی پرخیبرپختونخوامیں ایمرجنسی اورگورنرراج کانفاذکیا، اس اقدام سے پی ٹی آئی کی پوری حکومت گئی لیکن اس حکومت کے پیچھے نہ کوئی رویا، نہ چیخااورنہ چلایا۔
یہ سوال ہم نے اپنے محترم عابدخان جدون سے کیاکہ ایک بندہ نوکری سے جارہاہے اس کے پیچھے رونابھی ہے اوردھونابھی لیکن دوسری طرف پوری حکومت کے جانے پرہرطرف خاموشی ہی خاموشی ہے۔ اس کی کیاوجہ ہے؟ پتہ ہے عابدجدون نے کیاجواب دیا۔ کہنے لگے دنیاکام کرنے والوں کے پیچھے روتی ہے، نکموں کے پیچھے کوئی آنسوضائع نہیں کرتا۔ ایسوں کے جانے پرتو لوگ مٹھائیاں تقسیم کرکے بھنگڑے ڈالتے ہیں۔ گورنر راج پر عوام کی خاموشی میں سبق بھی ہے اور عبرت بھی۔ کاش کوئی سمجھے۔ روزکے احتجاج، مظاہروں، دھرنوں اور لانگ مارچ کو سیاست سمجھنے والوں کو اب جان لینا چاہیے کہ عوام کے نزدیک دھمکیوں، للکاروں........
