Log Mojzati Tehreerain Kyun Pasand Karte Hain?
لوگ معجزاتی تحریریں کیوں پسند کرتے ہیں
چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک تحریر وائرل ہے۔ ایک برین سرجن کی تحریر، ایک ناممکن رسولی، ایک اکیلی ماں اور آپریشن تھیٹر میں وہ لمحہ جب سرجن کے ہاتھ خود بخود چلنے لگتے ہیں۔ یہ تحریر پڑھ کہ آنکھیں بھر آتی ہیں۔ انگوٹھا شیئر کے بٹن کی طرف خود بخود بڑھنے لگتا ہے۔ مجھے بھی یہ تحریر بھیجی گئی۔ اعتراف یہ ہے کہ پہلی بار پڑھتے ہوئے میرا بھی دل بھر آیا تھا۔ شک دوسری بار پڑھنے پر ہوا۔
پہلے ایک محتاط رائے محفوظ کرلیجیئے کیونکہ کیڑے نکالنا آسان ہے اور دیانت داری سے پیش آنا مشکل۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ تحریر کس نے لکھی اور کس نیت سے لکھی مگر تحریر خود گواہی دیتی ہے کہ اُس کی جذباتی ساخت حد سے زیادہ درست ہے۔ چھبیس سالہ اکیلی ماں، ڈبل شفٹ، یتیم بچی، پرانے جوتے، ویٹنگ روم میں رنگ بھرتی کتاب۔ یہ تفصیلات معلومات نہیں دیتیں، صرف نشانہ لگاتی ہیں۔ تحریر کے طبی مناظر کلینک کے نہیں، سنیما کے ہیں۔ خون کا چھت تک اُڑنا اور دماغ کے تنے سے سات گھنٹے کی جنگ کے بعد مریضہ کا ایک ہفتے میں چل نکلنا۔ تحریر میں جس عالمی فیڈریشن کا حوالہ دیا گیا ہے اُس نام کا ادارہ ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ سب سے زیادہ کھٹکنے والا جملہ وہی ہے جو سب سے زیادہ دل کو لگتا ہے "میں جانتا تھا اُس دن لیڈ سرجن کون تھا"۔ کہانی ٹھیک وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے تصدیق شروع ہو سکتی تھی۔
خیر یہ مضمون اُس تحریر کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ اُس سوال کے بارے میں ہے جس نے مجھے ایک وقت تک جگائے رکھا کہ اگر کہانی جھوٹی ہو مگر نیت اچھی ہو تو نقصان آخر کس کا ہوتا ہے؟
پہلی بات یہ کہ ایسی تحریروں پر یقین کرنے والے........
