menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Gori Rangat Ka Junoon

12 0
previous day

دوہزار اکیس میں چار سو پاکستانی خواتین پر ایک تحقیق کی گئی۔ پتا چلا کہ گوری رنگت کی بنیاد پر امتیاز عورت کی خود اعتمادی کو واضح طور پر ٹھیس پہنچاتا ہے یعنی سانولی رنگت خواتین کے لئے کسی عیب سے کم نہیں۔ یہ کالا رنگ بذاتِ خود مسئلہ نہیں، اُس پر چپکایا گیا "عیب" کا لیبل مسئلہ ہے۔ یہ احساسِ کمتری ہوا میں سے پیدا نہیں ہوتا، یہ ہر روز بیچا جاتا ہے۔ ایک پوری صنعت، اربوں ڈالر کی عمارت اِسی ایک خوف پر کھڑی ہے کہ تم گوری نہیں ہوں۔ پھر وہی صنعت اِس خوف کا "علاج" بھی بیچتی ہے اور سب سے افسوسناک بات۔۔ یہ ہے کہ عالمی ادارہِ صحت کے مطابق گورا کرنے والی کئی کریموں میں مرکری اور سٹیرائڈز ہوتے ہیں جو جلد، گردوں اور اعصاب کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ بے چینی اور افسردگی پیدا کر تے ہیں۔ یعنی جس ڈبے کو خواتین اعتماد سمجھ کر خرید رہی ہوتی ہیں وہ اندر ہی اندر اُنھیں بیمار کر رہا ہوتا ہے۔ خوف بھی وہی بیچتے ہیں اور علاج بھی۔ یہ علاج اندر ہی اندر ایک نئی بیماری کو جنم دیتا ہے۔

میں نے ایک گفتگو تقریباً لفظ بہ لفظ یاد رکھی ہوئی ہے۔ بات کرنے والی میرے اپنے خاندان کی ایک لڑکی تھی۔ ہم چائے کے کپ تھامے بیٹھے تھے، جب اُس نے بظاہر ہنستے ہوئے، مگر ایک بجھی ہوئی آواز میں کہا آپ کو پتا........

© Daily Urdu