menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Gen Z Ki Baghawat Aur Qadeem Nasal Ke Tanay

21 0
wednesday

جن زی کی بغاوت اور قدیم نسل کے طعنے

پندرہ مئی، دو ہزار چھبیس۔ بھارت کے سب سے بڑے جج نے نوجوانوں کو "کاکروچ" کہہ دیا۔ نوجوانوں نے اس گالی کو سنجیدہ لیا اور اسے اپنے جھنڈے پر لکھ دیا۔ چند دن پہلے لاکھوں کاکروچ دہلی کی پارلیمان کی طرف رینگ رہے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے نیپال میں پارلیمان راکھ تھا۔ بنگلہ دیشی وزیرِاعظم جہاز میں بیٹھ کر بھاگ چکی تھیں اور پاکستان اپنی جگہ ساکت کھڑا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے جینا حرام کر رکھا ہے۔ پٹرول روز بڑھتا ہے۔ کشمیر خون میں نہا رہا ہے مگر یہاں کوئی اٹھ کھڑا ہونے کو تیار نہیں۔

سوویت یونین ٹوٹا تو کسی کو خبر تک نہ تھی۔ عرب دنیا میں آگ لگی تو سب ہکا بکا رہ گئے۔ نیپال جلنے سے ایک دن پہلے تک تجزیہ نگار کہہ رہے تھے کہ وہاں سب ٹھیک ہے۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جو دھماکہ اتنا بڑا ہو، وہ ہونے سے ایک لمحہ پہلے تک کسی کو دکھائی نہیں دیتا؟ جواب کسی گہری دانشوری میں نہیں ہے بلکہ یہ ایک سیدھی سی انسانی کمزوری میں ہے۔ ذرا ایک شہر کا تصور کیجیے جہاں ہر شخص بادشاہ سے نفرت کرتا ہے۔ ہر ایک۔ مگر ہر شخص کے دل میں ایک ڈر بھی بیٹھا ہے کہ "یہ نفرت صرف میرے سینے میں ہے، باقی سارا شہر تو بادشاہ کا وفادار ہے"۔

سو وہ دن میں بازار جاتا ہے تو بادشاہ کے حق میں سر ہلاتا ہے اور رات کو تکیے میں منہ دبا کر اپنی اصل رائے دفن کر دیتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ سچ بولنے کی قیمت اُس کی نوکری ہے، اُس کی عزت ہے اور کبھی کبھی اُس کی جان بھی۔ بس وہ ایک نقاب اوڑھ لیتا ہے اور یہی نقاب اُس کے ہمسائے کو مزید یقین دلا دیتا ہے کہ وہ اکیلا ناراض ہے کیوں وہ بھی تو ایسا ہی سوچتا ہے۔ اس بات........

© Daily Urdu