Main Kon Hoon?
بیت اللہ میں کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے دنیا اپنی تمام سمتیں بھول کر ایک ہی سمت میں چل پڑی ہو۔ لاکھوں کا ہجوم ہے، ہر طرف گردش کرتے قدم، لبیک کی صدائیں، دعاؤں میں اٹھے ہوئے ہاتھ، نم آنکھیں، خاموشی سے ہلتے لب اور مناجات میں ڈوبے ہوئے تر چہرے، کوئی اپنے رب کے سامنے رو رہا ہے، کوئی کچھ مانگ رہا ہے، کوئی صرف کعبے کو دیکھے جا رہا ہے، شاید اس کے پاس مانگنے کے لیے کوئی مناسب لفظ نہیں بچا۔ ہر شخص اپنے اندر ایک الگ داستان، ایک الگ بوجھ، ایک الگ امید اور ایک الگ سوال لیے اسی مرکز کے گرد گردش میں ہے، مگر باہر سے دیکھو تو بادشاہ اور گدا، صاحب ثروت اور تہی دست، عالم اور بے علم، سب ایک ہی سمت میں رواں ہیں۔
دنیا میں جس فاصلے اور امتیاز کو ہم بڑی محنت سے بناتے اور سنبھالتے رہتے ہیں، یہاں آ کر وہ دو سفید چادروں میں کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ایسے منظر میں دل چاہتا ہے کہ آدمی اس میلے کی بھیڑ میں گم ہو یا نہ ہو، مگر کم از کم اپنے آپ سے اوجھل ہوجائے، اسے کچھ دیر کے لیے یہ بھی یاد نہ رہے کہ وہ کون ہے، دنیا میں اس کی کیا حیثیت ہے، اس کے پاس کیا ہے اور کیا نہیں۔ وہ بس ایک محتاج ہو، جو ایک ایسے در پر کھڑا ہے جہاں پیش کرنے کو سوائے اپنے آپ کے اور کچھ باقی........
