menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Abadi Tarazu

33 0
25.02.2026

کائنات کا ایک حتمی اور ابدی ترازو ہے۔ دو پلڑوں میں عروج اور زوال، شہرت اور گمنامی برابر ڈولتے رہتے ہیں اور یہی تغیر اس کائنات کا سب سے بڑا توازن ہے۔ کون سا پلڑا کب بھاری ہوگا اور کون سا ہلکا، یہ کوئی نہیں جانتا۔ ترازو کا مرکز کس کے ہاتھ میں ہے، کون اور کب یہ طے کرتا ہے کہ اس میزان کو کس شکل میں قائم رکھنا ہے، یہ بھی کسی پر منکشف نہیں۔ مگر ہر شخص یہی سمجھتا ہے کہ یہ ترازو اس کے اپنے ہاتھ میں ہے اور یہ توازن مستقل ہے۔

جب بے انتہا دولت اور اندھی طاقت کا ملاپ ہوتا ہے تو پھر ایسی چیزیں وجود میں آتی ہیں جو انسان کو اس وہم میں مبتلا کردیتی ہیں کہ اختیار اور قدرت کا وہی مالک ہے۔ Rich as Croesus، یہ محض ایک فقرہ نہیں تھا، بلکہ ایک زمانے کی اجتماعی رائے تھی۔ دولت جب اس حد تک پہنچ جائے کہ کسی ایک انسان کا نام اس کا پیمانہ بن جائے، تو وہ شخص صرف امیر نہیں رہتا، وہ معیار بن جاتا ہے۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں لِڈیا کا بادشاہ Croesus اسی معیار پر کھڑا تھا۔ اس کی دولت یونانی دنیا میں ضرب المثل بن چکی تھی اور اس کی سلطنت اناطولیہ کے مغربی حصے میں سیاسی اور معاشی........

© Daily Urdu