Aj Gosht Vich Ki Paaiye?
میں نے اپنے پچھلے کالم میں عرض کیا تھا ڈی ایچ اے میں گھر کی شفٹنگ کے بعد یہ ہماری پہلی بکرا عید تھی، پہلے ہمیں اندرون شہر یا ڈی ایچ اے سے باہر کے کچھ رہائشی علاقوں میں اپنی مرضی کا گند ڈالنے کی کُھلی چُھٹی تھی، چنانچہ ہم نے سوچ رکھا تھا "ڈی ایچ اے میں بھی اپنے قربانی کے جانوروں کو ہم گھر سے باہر باندھیں گے، شام کو حسب معمول اُن کی رسیاں پکڑ کر اُنہیں گھمائیں گے تاکہ وہ ہمسایوں کے قیمتی پودوں پر کُھلے دل سے حملہ آور ہو سکیں، علاوہ ازیں وہ گھر کے باہر یا جگہ جگہ جو لِد کریں گے اُسے ڈی ایچ اے کا عملہ دن میں کم از کم دو تین بار ضرور اُٹھا کے لے جائے گا"۔
ظاہر ہے ایسا ممکن نہیں تھا، ہمیں پہلے ہی روز اندازہ ہوگیا تھا یہاں بندے کا پُتر بن کے رہنا پڑے گا، یہاں اپنی مرضی کی چَولیں ہم نہیں مار سکیں گے، پہلے ہی روز ہمارے ڈرائیور نے گھر سے باہر گاڑی دھوئی ہمیں اس کا بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑ گیا، ہمیں پتہ ہی نہیں تھا یہ رولز کی خلاف ورزی ہے، اب گھر کے اندر گاڑی دھوتے ہوئے بھی ہمارا ڈرائیور انتہائی محتاط رہتا ہے، عید قربان سے ایک روز پہلے اپنے ایک محلے دار ریٹائرڈ کرنل صاحب سے میں نے پوچھا "ہمارے لئے قُربانی کے کیا قواعد ضوابط ہیں؟"۔ اُنہوں نے اُس کی تفصیل مجھے بتا دی، پھر میں نے اُن سے پوچھا "آپ کے لئے کیا قواعد و ضوابط ہیں؟" وہ جواب میں مُسکرا دئیے۔
میں نے شکر ادا کیا وہ بُرا نہیں مان گئے ورنہ ممکن تھا اُن کے لوگ مجھے بھی کوئی بیل بکرا سمجھ کر ذبح کر دیتے، قواعد و ضوابط یا رولز کی خلاف ورزی کے جُرمانے سے بچنے کے لئے اس بار ہم نے اپنی قربانی اپنے........
