menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Siasat Ko Siasat Rehne Dein

28 0
13.08.2026

سیاست کو سیاست رہنے دے

ہر سیاسی جماعت کے پاس ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب اسے لگتا ہے کہ دنیا اس کے خلاف ہے، تاریخ نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے، مخالفین سازش کر رہے ہیں اور ریاست نے شاید اس کے لیے الگ سے کوئی فولڈر بنا رکھا ہے۔ یہ کیفیت نئی نہیں۔ پاکستان کی سیاست میں تو تقریباً ہر جماعت کسی نہ کسی مرحلے پر اس تجربے سے گزر چکی ہے۔ مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب سیاسی غصہ آہستہ آہستہ سیاسی شعور کی جگہ لے لیتا ہے۔

مقتدرہ سے اختلاف ایک سیاسی مؤقف ہے۔ حکومت، پالیسی یا ادارہ جاتی کردار پر تنقید بھی سیاست کا حصہ ہے۔ مگر جب یہی اختلاف پورے ریاستی ڈھانچے، فوج، پولیس اور دیگر فورسز سے نفرت میں تبدیل ہونے لگے تو معاملہ محض سیاست نہیں رہتا۔ پھر بیانیہ اپنے خالق کے ہاتھ سے نکل کر اپنی زندگی شروع کر دیتا ہے۔ محمد حسین جیسے کردار اسی مقام پر پیدا ہوتے ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ محمد حسین نے کیا کیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے ذہن میں یہ خیال آیا کہاں سے کہ ریاستی اداروں سے نفرت یا تصادم کوئی سیاسی فضیلت ہے؟ اس کے ذہن کی زمین کس نے تیار کی؟ اسے کون سا مواد مسلسل فیڈ کیا گیا؟ کس نے اسے یہ باور کرایا کہ سیاسی مخالف دراصل قومی دشمن ہے اور ریاستی ادارہ یا فورسز ہماری دشمن ہے جس کا خاتمہ ضروری ہے؟ فورسز کے خلاف بیانیہ بنانے، اینٹی اسٹیبلشمنٹ سے اینٹی سٹیٹ تک جانے والے بیانئیے سے محمد حسین جیسے........

© Daily Urdu