menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Inqilabi Alamat

22 0
24.07.2026

ہر عہد کی اپنی انقلابی علامت ہوتی ہے۔ فرانس میں گلوٹین تھی، روس میں سرخ پرچم، چین میں ماؤ زے تنگ کا سرخ منشوری کتابچہ، ایران میں خمینی صاحب کا عمامہ، عرب بہار میں فیس بک اور اب جین زی کے زمانے میں لگتا ہے کہ انقلاب کا پرچم ایک ہیش ٹیگ میں بدل کر سوشل میڈیا سے ہوتا سڑکوں پر آ جاتا ہے۔ بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی اسی نئے جین زی عہد کی پیداوار ہے۔ ایک ایسی طنزیہ تحریک جس نے سیاست دانوں کو سنجیدگی سے لینے سے انکار تو کر دیا لیکن سیاست کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ بالکل ویسے جیسے جین زی تحریک نیپال، سری لنکا، بنگلہ دیش، مراکو وغیرہ میں بھی اُٹھی مگر نظام کی تبدیلی بروئے کار نہ لا سکیں۔ صرف چہرے بدلے۔ پرانے سیاستدان پھر سے اقتدار میں آئے۔ فوج کا عمل دخل مضبوط ہوا اور جین زی کو نیا دلاسہ مل گیا۔

یہ شاید وہ پہلی نسل ہے جو کسی منشور، لائحہ عمل یا منظم قیادت سے زیادہ ایک میم پر یقین رکھتی ہے۔ ان کے نزدیک اگر پورا نظام مذاق بن چکا ہے تو اس کا سب سے مہذب جواب بھی مذاق ہی ہے۔ لینن نے کہا تھا کہ انقلاب کے لیے تنظیم چاہیے۔ جین زی کہتی ہے کہ نہیں ایک اچھا ایڈمن، سوشل میڈیا ٹیم اور تیز رفتار انٹرنیٹ کافی ہے۔ یہ نسل کسی ایک نظریے کی اسیر نہیں۔ اسے بائیں اور دائیں کی پرانی لڑائیاں بور لگتی ہیں۔ وہ اقتدار سے زیادہ بیانیے پر حملہ کرتی ہے۔ ان کا پہلا وار طنز ہوتا ہے اور طنز کے بعد ہیش ٹیگز ٹرینڈنگ۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایک میم وہ کام کر دیتی ہے جو بڑا لیڈر بھی نہیں کر پاتا۔

جین زی کا سب سے خطرناک ہتھیار یہی ہے کہ وہ کسی چیز کو مقدس ماننے پر تیار نہیں۔ اس کے لیے ہر طاقتور شخص ایک ممکنہ لطیفہ یا ہدف ہے۔ لیکن اس تمام ردعمل کے پیچھے ایک گہری اداسی بھی چھپی ہے۔ جب نوجوان اداروں پر اعتماد کھو دیتے ہیں تو وہ ان پر قہقہے لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی دراصل ان نوجوانوں کا گروہ ہے جنہیں یقین ہو چکا ہے کہ اگر ایوانوں میں سنجیدگی باقی نہیں رہی تو ٹرول ہی........

© Daily Urdu