Hamara Dilchasp Merit
یہ تو سب جانتے ہیں کہ ادارے ناکام ہیں لیکن سوال یہ ہے ادارے چلاتے کون ہیں۔ ادارے کبھی ناکام نہیں ہوتے، ادارے چلانے والے ناکام ہوتے ہیں۔ اگر سات دہائیوں سے ایک ہی ادارہ ایک ہی طرح کے نتائج دے رہا ہے تو منطق یہ کہتی ہے کہ مسئلہ عمارت میں نہیں، عمارت کے مکینوں میں ہے۔ قابل آدمیوں کے ہاتھ سے مسلسل ناقص فیصلے برآمد نہیں ہوتے۔ اگر ہوتے رہیں تو پھر یا تو ہماری قابلیت کی تعریف غلط ہے یا ہماری تقرریوں کا طریقہ۔ پارلیمان میں بیٹھے لوگ نااہل ہو سکتے ہیں پارلیمان بطور ادارہ نہیں۔ اسی طرح عدلیہ اور بابوکریسی ہے اور پھر طاقت کا مرکز گوکہ وہ آئین کی رُو سے ادارہ نہیں مگر ہمارے ہاں وہ سب سے اہم ادارہ بن چکا ہے۔
ادارے ناکام کیوں ہوتے ہیں؟ کیا اس سرزمین نے ذہین لوگ پیدا کرنا چھوڑ دیے ہیں؟ یہ کہنا اتنا ہی مضحکہ خیز ہے جتنا یہ کہنا کہ بارش صرف بنگلوں پر برستی ہے۔ قدرت جب ذہانت تقسیم کرتی ہے تو اسے نہ کسی جاگیردار کا نام معلوم ہوتا ہے، نہ کسی بیوروکریٹ کا گریڈ، نہ کسی بااثر سیاسی خاندان کا۔ ذہانت یہ نہیں دیکھتی کہ ماں کے ہاتھ میں سونے کے کنگن ہیں یا محنت کشی کے چھالے۔ ماہرینِ نفسیات جسے ذہین کہتے ہیں وہ بچے ہیں جو آئی کیو لیول کے 130 سے زیادہ کے معیار پر پورے اترتے ہیں وہ غیر معمولی ٹھہرتے ہیں۔ اِس حساب سے ہر سال اس دھرتی پر تقریباً........
