Mehmood Khan Achakzai Ki Siasat
محمود خان اچکزئی کی سیاست
محمود خان، خان شہید صمد خان اچکزئی کے صاحبزادے ہیں۔ خان شہید خدائی خدمت گار تحریک میں باچا خان اور بعد میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) میں ولی خان کے ساتھی تھے لیکن نیپ کی پشتون، بلوچ مشرکہ کاز کے لئے سیاست، پشتون قوم کی الگ سیاسی شناخت، برطانوی بلوچستان کے پشتون علاقوں کی جداگانہ آئینی حیثیت پہ اختلافات کی وجہ سے خان شہید کو نیپ سے اپنی راہیں جدا کرنی پڑی۔
یہ علیدگی تنظیمی اور نظریاتی بنیادوں پہ تھی۔ کیونکہ وہ ایک ایسا سیاسی پلیٹ فارم چاہتے تھے جو صرف پشتون قومی حقوق پہ مرکوز ہو۔ ان وجوہات کی وجہ سے ان کو 1967 میں نیپ سے راہیں جدا کرنا پڑی اور ان کو ایک سال بعد 1968 میں اپنی نئی جماعت پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی (PNAP) کی تشکیل پہ آمادہ کیا۔ اس جماعت كا مقصد پشتون قومی شناخت، صوبائی خودمختاری، آئینی جہد وجہد اور مرکزیت کے خلاف موقف پہ مبنی تھا۔ 2 دسمبر 1973 کو خان شہید ایک بم دھماکے میں شہید کئے گئے۔ ان کی شہادت کے بعد ان کے جوان سال بیٹے محمود خان اچکزئی نے پارٹی کی قیادت سنبھالی۔
1975 میں ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے نیپ پہ پابندی کے بعد قوم پرست سیاست دباو میں آگئی اور پی این اے پی کو بھی اپنی سیاسی سرگرمیاں محدود کرنی پڑی۔ ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد قوم پرست اور جمہوری جماعتوں کے کام کرنے کا دائرہ مزید تنگ کر دیا گیا۔ محمود خان اچکزئی نے اس عرصے میں پارٹی کو فعال اور خان شہید کے نظرہات کو زندہ رکھنے کی کوششیں جاری و ساری رکھی۔ 1981 میں ملک کی اکثر سیاسی جماعتوں نے ضیاء الحق مارشل لاء کے خلاف MRD (Movement for Restoration of Democracy) بنائی جس کا مقصد ضیاء مارشل لاء کا خاتمہ اور جمہورپت کی بحالی تھی۔ تمام قوم پرست جماعتیں بشمول محمود خان اچکزئی کی پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اس تحریک کا حصہ بنی۔
1983 میں اس تحریک نے سندھ اور بلوچستان میں بہت زیادہ شدت اختیار کرلی۔ دفعہ 144 کے نفاذ کی وجہ سے سیاسی اجتماعات پہ پابندی تھی لیکن پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے جلوس نکالنے پہ ریاستی اداروں کی جانب کی گئی فائرنگ سے پارٹی کے پانچ کارکن شہید ہوگئے۔ محمود خان اچکزئی کو کسی ممکنہ گرفتاری کی وجہ سے افغانستان جانا پڑا۔ اس دور میں اکثر قوم پرست رہنماوں کو جیلوں میں ڈالا گیا یا پھر وہ جلا وطنی پہ مجبور ہوئے۔ 1989 میں شیر علی باچا کی مارکسی انقلابی نظریے والی مزدور کسان پارٹی اور محمود خان اچکزئی کی پشتون خوا نیشنل عوامی پارٹی کے انضمام کے بعد اس نئی پارٹی کو پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کا نام دیا گیا۔
1988 میں ضیاء الحق کی وفات کے بعد منعقد ہونے والے پہلے انتخابات میں اس پارٹی نے محمود خان کے بغیر حصہ لیا اور صرف دو صوبائی نشستیں حاصل کرسکی۔ اس کے بعد سوائے 2008 کے باقی منعقد ہونے والے تمام انتخابات میں اس جماعت نے حصہ لیا ہے اور 2013 کے انتخابات میں تو یہ صوبے کی سب سے بڑی جماعت بن کے سامنے آئی جب انھیں صوبائی اسمبلی کی 14 قومی اسمبلی کی 4 اور سینیٹ کی 6 نشستیں ملیں۔ مسلم لیگ ن اور نیشنل پارٹی کے ساتھ مل کے صوبے کی مخلوط حکومت بھی بنائی۔ گورنر شپ بھی ان کی جماعت کو ملی جس پہ پارٹی کے چئیرمین محمود خان اچکزئی کے سابق بیوروکریٹ بھائی محمد خان اچکزئی جس کا پارٹی کی عملی سیاست سے کوئی دور کا تعلق نہیں تھا ان کو غیر متوقع طورپہ پارٹی چئیرمین نے پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے مجوزہ ناموں ڈاکٹر کلیم اللہ، نواب ایاز جوگیزئ، اکرم شاہ اور عثمان کاکڑ کو نظر انداز کرتے ہوئے گورنر نامزد کیا اور اپنے چھوٹے بھائی کو پی اینڈ ڈی کا وزیر۔ گورنرشپ پہ اپنے بھائی کی نامزدگی کے فیصلے سے پارٹی کی مرکزی اور صوبائی قیادت اور کارکنوں کے اندر........
